تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 48
سے پیدل چل پڑے اور اب پیدل چلتے ہوئے رنگون پہنچے گئے ہیں اور آگے کی طرف بھا رہے ہیں۔کیا۔جالندھر کیا رنگون ، پندرہ سو میل کا سفر ہے۔لیکن انہوں نے ہمت کی اور پہنچ گئے۔راستہ میں بیمار بھی ہوئے لیکن دو ماہ بیمار رہنے کے بعد پھر چل پڑے۔اب وہ سٹریٹ سیٹلمنٹس کے علاقہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔تو ہمت کر کے کام کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کام کے راستے پیدا کئے ہوئے ہیں کے لئے نیز فرمایا :- ایک نوجوان نے گذشتہ سال میری تحریک کوشنا۔وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے۔وہ نوجوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جا پہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔حکومت نے اُسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں سے بھی وہیں واقفیت بہم پہنچائی اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قید خانہ میں بھی اثر پیدا کر رہا ہے۔بلانوں نے قتل کا فتویٰ دیا۔مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رھایا ہے۔اسے ہم قتل نہیں کر سکتے۔آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچا دیا۔اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے۔اس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ میں نے اُسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جا سکتے تھے اور وہاں گرفتاری کے بغیر تبلیغ کر سکتے تھے تو وہ فوراً بول اُٹھا کہ اب آپ کوئی ملک بتا دیں میں وہاں چلا جاؤں گا۔اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے۔لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے کسی دوسرے ملک کی طرف روانہ ہو جائے۔مگر میرے کہنے پر وہ والدہ کو ملتے جارہا ہے۔اگر دوسرے نوجوان بھی اس پنجابی کی طرح جو افغانستان سے آیا ہے ہمت کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔روپیہ کے ساتھ میشن قائم نہیں ہو سکتے۔اس وقت جو ایک دوشن میں اُن پر ہی اس قدر روپیہ صرف ہو رہا ہے کہ اور کوئی مشین نہیں کھولا جا سکتا لیکن اگر ایسے چند نوجوان پیدا ہو جائیں تو ایک دو سال میں ہی اتنی تبلیغ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں دھاک بیٹھے جائے اور دنیا سمجھ لے کہ یہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کا رکنا محال ہے" کے ہاتھ سے کام کرنے کے مطالبہ پر جماعت کے افراد نے خاص توجہ دی۔ہاتھ سے کام کرنے کا مطالبہ چنا نچہ اس ضمن میں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلبہ نے اولیت کا " + له ا الفضل " و در جنوری ۱۱۳ صبح کاظم ۲-۴- سے " الفضل" ۳ دسمبر ۱۹۳۵ صفحه ۸-۹ : ی