تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 660 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 660

۶۳۳ سیدنا حضرت خلیفہ البیع الثانی مادر مادر مرد کو مسند خلافت پر تمکن ہوئے تھے۔اور اس طرح ۱۳ مارچ ہو کہ آپ کی خلافت پر۔۔یان کامیاب و کامران مظفر و منصور مبارک مسعود، شاہد و شہود عناصر و معمور خلافت پر پچیس سال کا عرصہ پورا ہو گیا۔صداقت اور خدمت کی شان عرصوں اور زمانوں کی قید سے بالا ہے۔اور شہید امت سلطان فتح علی ٹیپو رحمتہ اللہ علیہ کے بقول گیڈر کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے۔ایسے مگر ان پھلپین برسوں کا کیا کہنا میں کے ایک ایک دن کی ایک ایک ساعت اسلام و احدیت کی خدمت ، بنی نوع انسان کی ہمدردی اور حق و صداقت کی اشاعت کے لئے وقف رہی۔یہ ایک نہایت مبارک دور تھا۔جب کئی پہلے سال جماعت احمدیہ انشقاق و افتراق اور تشتت اور ادبار کی پر خطر اور عمیق وادیوں میں گھری ہوئی پائی گئی۔مگر جس کے پچیسویں سال میں وہ عظمت و شوکت کے بلند اور پُر شکوہ مینار تک جا پہنچی۔اور یہ سب کامیابیاں ، کامرانیاں اور فتوحات خدا کے فضل اور رحم کیساتھ اس کمزور نحیف اور بیمار انسان کو نصیب ہوئیں۔جو خود اپنے ہی بعض ساتھیوں کی نگاہ میں تغیر اور نا چیز کھا جاتا تھا۔اور جمہوریت کے دلدادہ مغربیت کے خوگر بھی غیروں میں مقبول ہونی کی خاطر اسے بچہ کہکر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے مگر اس بچہ کے ہاتھوں پر جہاندیدہ اور ہر تجربہ کار کو شکست فاش ہوئی۔فرزانے ہار گئے اور دیوانوں کی جیت ہوئی۔کوئی دقیقہ اُس کو ناکام بنانے کیلئے اٹھا نہیں رکھا گیا اور کوئی حد نہیں جو اُس کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکنے کی خاطر نہیں کیا گیا۔مگر جونہی دشمن خدا کے اس بندہ کو شکست دینے کا یقین کر لیتا آسمان سے اس کی فتح کے شادیانے بجا دیے جاتے اور نصرتوں کی فوج اس کی مدد کیلئے اتر آتی۔اور یہ اس لئے ہوا تا دنیا کو یقین ہو کہ فضل عمر کی خلافت۔خلافت حقہ ہے۔جس کا محافظ خود ترکش کا خدا ہے۔کوئی نہیں جو ائی کی مقدس قبا پر ہاتھ ڈال سکے۔کوئی نہیں جو اس کی تقدیوں کو بدل نے۔اور یہی وہ اٹل حقیقت تھی جس کا اعلان حضرت خلیفتہ اسیح الثانی شانے اوائل خلافت میں ہی کر دیا تھا۔چنانچہ حضور نے اور مارچ ء کو ایک ٹریکیٹ شائع کیا جس میں تحریر فرمایا : ه تاریخ سلطنت خداداد میسور ۳۳۰ (مؤلفه محمد مینگوری ناشر پبلیشرز یو نائیٹیڈ چوک انار کلی لاہور طبع سوم ) ہے