تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 654 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 654

ایک مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب مبلغ تھے اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد بخش صاحب - غیر احمدی اور غیر مسلم شرفاء نے مولوی محمد بخش صاحب کی شکست کا اعتراف کیا ہے نہ مباحثہ ڈیریوالد : - ۱۲ ر اپریل مرد کو مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے موضع ڈیر یو اللہ ضلع گورداسپور میں ایک اسراری مولوی صاحب (محمد حیات نامی سے ختم نبوت اور صداقت مسیح موعود پر مناظرہ کیا۔احمدی مناظر کے پیش کردہ دلائل فریق ثانی آخر تک نہ توڑ سکا۔تے به مباحثه انبالہ : ۲۹ رمئی ۱۳۶ درد کو مولوی ابوالعطاء صاحہ نے پادری عبدالحق صاحب سے مسجد احمد یہ انبالہ میں مناظرہ کیا۔آپ نے دوران بحث بائیبل سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے عینی گواہوں کا مطالبہ کیا۔اور بائیبل سے حضرت مسیح کی صلیبی موت سے نجات اور کفارہ کی عدم ضرورت پر اس قدر عقلی محالات دارد کئے کہ پادری صاحب پوری بحث میں صرف چند سطحی باتوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ایک غیر احدی دوست نے اس مباحثہ کی نسبت یہ رائے قائم کی۔کہ پادری عبدالحق صاحب مولوی البو العطار صاحب کے مطالبہ عینی گواہاں برصلیبی موت مسیح کو آخر وقت تک پورا نہ کر سکا۔اور دیگر سوالات کا بھی معقول جواب نہ دے سکا اسلئے کامیابی کا سہرا مولودی ابو العطاء اللہ دتا صاحب کے سر بندھان سے م - مباحثہ لودھراں:۔قریش محمد نذیر صاحب عثمانی نے ۱۸ اگست شہداء کو احرار کا نفرنس لودھراں کے موقع پر غیر احمدی علماء سے دو گھنٹے تک متبادلہ خیالات کیا جس میں غیر احمدی علماء کی طرف سے بہت بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا گیا۔اور کئی غیر احمدی معززین نے اس بات کا عین مجمع میں اقرار کیا کہ احمدی نہایت شرافت سے گفتگو کرتے ہیں۔مناظرہ کے خاتمہ پر ایک سرکاری افسر نے احتداری علماء کی نسبت کہا کہ ان لوگوں نے آج اسلام کو بہت بدنام کیا ہے۔اور بہت گندی باتیں منہ سے نکالی ہیں۔یہ لوگ ہماری مستورات کی موجودگی میں ناشائستہ حرکات کرتے رہے۔کیا ہم ان سے یہ اسلام سیکھنے آئے تھے۔ہمارے لئے احمدی جماعت ہی قابل عزت ہے۔اور ہم ایسے علماء پر احمدیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ایک احراری مولوی صاحب کے یہ کہنے پر کہ ابتداء احمدیوں نے کی ہے صاحب موصوف نے کہا کہ ہر گز نہیں ابتداء اور انجام سب تمہاری طرف سے ہوا۔کے ے۔الفضل ۲۰ اپریل ۳ ا حت کالم ۳ مٹ : - العضل ۱۶ را پریل ۱۹۳۹ م ص کالم : ه - الفضل ورجون الرومٹ کالم سا ہے ہے۔الفضل در تمبر ی امت نے ف ملا ٣