تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 640
۶۱۳ "میں نے مسلمانوں کی مختلف فرقہ داری اختلافات سے ہمیشہ اپنے آپکو الگ رکھا اور ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے۔کہ مسلمانوں کے لئے توحید ، رسالت اور قرآن کے مشترکہ مسائل میں سب کچھ ہے۔لیکن احمدی جماعت اور اسکی کوششوں سے احمدی نہ ہونے کے باوجود مجھے ابتداء سے ہمدردی رہی ہے۔خود میرے بڑے بھائی سیٹھ عبداللہ الہ دین، اللہ ان کی عمریں برکت دے، احمدیت کے ایک عملی مبلغ ہیں۔میں اس جماعت کی اشاعت و تبلیغ کی مسائل کو دیکھ کر خصوصیت کے ساتھ بہت پسند کرتا ہوں اور اس میں حتی الامکان امداد کرتا رہتا ہوں۔جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مجھ پر خاص توجہ اور عنایت ہے۔اور ان کی عملی زندگی، وسیع النظری اور خدا پرستی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا۔اپنے والد کے منصب خلافت کو ادا کرتے ہوئے پچیس سال کی تکمیل میں اُن کو اور جماعت احمدیہ کو دل سے مبارک باد دیتا ہوں " -۴- سرڈگلس ینگ بالقا بہ چیف جسٹس ہائی کورٹ لاہور نے پیغام دیا کہ :۔یکی حضرت امام جماعت احمدیہ کو انکی خلافت پر پھیویں سال گزرنے کی تقریب پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔میں جماعت احمدیہ کے افراد کو جوڈیشل محکمہ میں ملازم رکھتے ہوئے ہمیشہ خوشی محسوس کرتا ہوں۔کیونکہ مجھے اُن کی دیانت داری کے خلاف کبھی کسی کی طرف سے اشاره وکنایہ بھی شکایت نہیں پہنچی " ۵- آنریبل کنور سر جدایش پرشاد بہادر ایجوکیشنل مبر گورنمنٹ آف انڈیا دہلی : سرجنگ نے پیغام دیا کہ : - " میں جماعت احمدیہ کے ذمی شان امام کی جوبلی کی تقریب پر نیک دعاؤں اور تمناؤں کا ہادیہ پیش کرتا ہوں لے شمس العلماء خواجہ حسن نظامی جلسہ خلافت ولی کا انعقاد کی بھی تیاریاں ہو رہی تھیں کے کہ شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے ۲۲؍ دسمبر اور خلافت جوبلی 1939ء کے اخبار "منادی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ہے اردو کے شام کے مشہور سفر دہلی کا گروپ فوٹو شائع کیا۔اور اس کے نیچے یہ نوٹ شائع کیا :- ه الحکم ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ در صفحه ۲ : لو