تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 641
۶۱۴ به تصویر در گاه حضرت مواجه نظام الدین اولیا ء کے قریب مسجد نواب جہاں دوران خان میں گزشتہ سال کی گئی تھی جس میں قادیانی جماعت کے خلیفہ صاحب اور بچوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور بلبل ہندوستان سروجنی نائیڈ و صاحبہ شریک ہوئی تھیں۔سامنے نواب خیال دوراں کا مزار ہے جو نادر شاہ ایرانی کی لڑائی میں مقام پانی پت شہید ہوئے تھے اور جن کے پوتے حضرت خواجہ میر درد کی اولاد میں وہ خاتون ہیں جو جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد کی والدہ ہیں۔آجکل مرنا صاحب کی خلافت کی پچیس سالہ جوبلی قادیان میں ہو رہی ہے۔اور یکں اپنے تعلقات کی یادگار میں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے میرے تھے۔اور اُن کے فرزند اور خلیفہ حضرت مرزا البشیر الدین محمود احمد سے ہیں اور مرزا صاحب نے اپنی خلافت کے پچیس سالہ ایام میں اسلام کی اور مسلمانوں کی بڑی بڑی خدمات انجام دی ہیں۔اور سر محمد ظفر اللہ خان جیسے خادم اسلام اور مسلمین افراد تیار کئے ہیں۔اس لئے یکن یہ تصویر اپنی جماعت اور ناظرین منادی کی معلومات کے لئے اور جوبلی کی خوشی میں دل سے شریک ہونے کے لئے شائع کرتا ہوں۔حسن نظامی اے خلافت جوبلی کی روح پرور تقریب پر احمدیوں کے علاوہ جلسہ خلافت جو بلی کا ذکر غیر شائع، غیر احمدی اور غیر مسلم معززین کی ایک کثیر تعداد ملکی پریس میں ، نے شرکت کی۔اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی حیرت انگیز قیادت اور احمدیوں کی اپنے محبوب امام سے بے نظیر فدائیت و عقیدت کے نظارے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کئے۔اس سلسلہ میں بعض اخبارات کے تاثرات درج ذیل کئے بجاتے ہیں :- (1) اخبار "پارس" ( از جنوری ۹۳) نے لکھا: در گو تعصب کے باعث ملک کے مسلم اور غیر مسلم اخبارات نے قادیان کے ا بحواله الفضل در جنوری ۱۹۳۰ء صفحه ۲ : مثلاً حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب پیشاوری جنہوں نے جنوری ۱۹۴۰ء میں بیعت خلافت کر لی۔جیسا کہ اگلی جلد میں آرہا ہے۔مرزا معصوم بیگ صاحب : ۳ مثلاً ابو ظفر ناز شش صاحب صفوی ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب ڈویژنل آفیسر بر ما ریلویز -۔فقیر محمدان رشید صاحب ڈراے ایل ایل بی ضلع جھنگ۔سید اقبال حسین صاحب ایڈووکیٹ لکھنو۔اور