تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 42
KA اندوختہ دے دیا تھا۔ایک نے لکھا۔دوسرے سال میں نے شرم کی وجہ سے بتایا نہیں تھا۔میں نے اپنی کچھ اشیا بیچ کر چندہ دیا تھا۔پھر میرے سال سب کچھ بیچ کر چندہ دے چکا ہوں۔اب رقم کم کرنے پر مجبور ہوں۔لیکن نویں سال میں لکھا کہ خدا تعالیٰ نے کچھ رقم جمع کرنے کی توفیق عطا کی اس لئے پہلے کی طرح ہر سال کا چندہ بڑھا کہ ادا کروں گا۔در اصل جب میں تحریک جدید کے چندہ کا اعلان کر رہا تھا تھا۔خدا تعالے ۲۵ لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک جو پہلے کی گئی تھی اسے کامیاب بنانے کی بنیاد رکھوا رہا تھا۔میرا شروع سے ارادہ تھا کہ اس چندہ سے ریند و فنڈ قائم کیا جائے ہو تبلیغ اور سلسلہ کے دوسرے کاموں میں کام آئے۔میں نے اس روپیہ سے زمین خریدی جو ساڑھے نو ہزار ایکڑ ہے اور تحریک جدید کی ملکیت ہے “ اے تحریک جدید کا خوشگوار اثر تحریک جدید کی ایک عجیب برکت یہ نازل ہوئی کہ جہاں اس سے پہلے مبیت صدر امین احمدیہ کے چندوں پر امیہ کے عام چندوں کی رفتا کچھ حصہ سے نبی است ہو چکی تھی اس پر میں ہیں۔میں بھی تیزی پیدا ہوگئی بچنانچہ حضور فرماتے ہیں :۔پر ” خدا تعالے کی قدرت ہے۔اس سے پہلے صدرا نمین احمدیہ ہمیشہ مقروض رہا کرتی تھی اور اُسے اپنا بجٹ ہر سال کم کرنا پڑتا تھا جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا تو ناظروں نے میرے پاس آآکر شکایتیں کہیں کہ اس تحریک کے نتیجہ میں انہین کی حالت خراب ہو جائے گی۔میں نے اُن سے کہا کہ تم عقد العالی پر توکل کرو اور انتظار کرو اور دیکھو کہ حالت سدھرتی ہے یا گرتی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کریا تو صدر انجین احمدیہ کا بجٹ دو اڑھائی لاکھ روپیہ کا ہوا کرتا تھا اور یا اس تحریک کے دوران میں چار پانچ لاکھ روپیہ تک جاپہنچا۔ادھر جماعت نے تحریک جدید کی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سال کے اندر ہی مطالبہ سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہو گئی۔جب میں نے پہلے دن جماعت سے ۲۷ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا ہے تو واقعہ میں میں یہی ہو سمجھتا تھا کہ میرے مونہہ سے یہ رقم تو نکل گئی ہے مگر اس کا جمع ہونا بظاہر بڑا مشکل ہے۔اللہ تعالے کا یہ کسی قدر عظیم الشان فضل ہے کہ ۲۷ ہزار کیا اب تک ۲۷ ہزار سے پچاس گئے سے بھی زیادہ رقم آچکی ہے" لکھے تقریر فرموده ۲۷ دسمبر (غیر معبود تقری شعبہ رو نویسی میں موجود ہے او سل العقل " سر فرودی و صفحه با به لیکن