تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 618
۵۹۳ NERVOUS میں نے شروع دن سے یہ بات محسوس کی ہے کہ ذاتی بناوٹ کے لحاظ سے تقریر کرنا میرے لئے بڑا ہی شکل ہوتا ہے اور میری کیفیت ایسی ہو جاتی ہو جسے اردو میں گھبرا جانا کہتے ہیں۔اور انگریزی میں ہو جانا کہتے ہیں۔میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اپنی دماغی کیفیت کے لحاظ سے میں ہمیشہ نرویس ہو جاتا ہوں یا گھبرا جاتا ہوں۔مجھے یاد ہے۔جب میں نے پہلی تقریر کی اور اس کے لئے کھڑا ہوا۔تو آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا۔اور کچھ دیر تک تو حاضرین مجھے نظر نہ آتے تھے۔اور یہ کیفیت تو پھر کبھی پیدا نہیں ہوئی۔لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک خاص وقت میں جس کی تفصیل میں آگے چل کر بیان کروں گا۔میرے دل میں اضطراب سا پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن وہ حالت اُس وقت تک ہوتی ہے سبب تک کہ بجلی کا دُہ کنکشن قائم نہیں ہوتا۔جو شروع دن سے کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا ہو جایا کرتا ہے۔اور جب یہ دور آجاتا ہے۔تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے مقرر اور لستان جو اپنی اپن و بانوں کے داہر ہیں۔میرے سامنے بالکل نہیچ ہیں اور میرے ہا تھوں میں کھلونے کی طرح ہیں۔جب میں پہلے پہل تقریر کے لئے کھڑا ہوا۔اور قرآن کریم سے آیات پڑھنے لگا۔تو مجھے الفاظ نظر نہ آتے تھے۔اور چونکہ وہ آیات مجھے یاد تھیں۔میں نے پڑھ دیں۔لیکن قرآن کو میرے سامنے تھا۔مگر اس کے الفاظ مجھے نظر نہ آتے تھے۔اور جب میں نے آہستہ آہستہ تقریر شروع کی۔تو لوگ میری نظروں کے سامنے سے بالکل غائب تھے۔اس کے بعد یکدمہ یوں معلوم ہوا کہ کسی بالا طاقہ کے ساتھ ہیر سے دماغ کا اتصال ہو گیا ہے۔یہاں تک کہ جب میں نے تقریر ختم کی تو حضرت خلیفہ مسیح اقول رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔کہ یہ تقریر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔اور انہوں نے قرآن کریم کے جو معارف بیان کئے ہیں۔باوجود اسکے کہ میں نے بڑی بڑی تفاسیر پڑھی ہیں۔اور میری لائبریہ کی میں بعض نایاب نظامیہ موجود ہیں۔منظر یہ تعارف نہ مجھے پہلے معلوم تھے اور نہ میں نے کہیں پڑھے ہیں۔سو جب دوران تقریریں وہ کیفیت مجھ پر طاری ہوتی ہے۔تو میں محسوس کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دو کل دبائی گئی ہے۔اور اب اللہ تعالیٰ میرے دماغ میں ایسے معارف نازل کرے گا۔کہ جو میرے علم میں نہیں ہیں۔اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن شریف پڑھاتے ہوئے بھی وہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔آج بھی وہ کیفیت شروع ہوئی تھی۔مگر اس وقت جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں۔انکو شنکر وہ دور ہوگئی۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو دو شخص آپس میں اڑ