تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 41
۳۷ نے ا پریل ۹۳۶ہ کو ایک تقریر کے دوران تحریک جدید کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا :- ہم میاں محمود کے دشمن ہیں وہاں ہم اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔دیکھو اس نے اپنی ائس جماعت کو جو کہ ہندوستان میں ایک تنکے کی مانند ہے کہا کہ مجھے ساڑھے ستائیں ہزار روپیہ چاہیئے۔جماعت نے ایک لاکھ دے دیا ہے۔اس کے بعد گیارہ ہزار کا مطالبہ کیا تو اسے دگنا تگنا دے دیا سے مخلصین جماعت کی اس بے نظیر مالی قربانی میں خدا تعالے کا ایک عجیب تعریف کار فرما تھا۔خدائی تصرف جس کی تفصیل خو حضور ہی کے الفاظ میں لکھنا ضروری ہے، حضور فرماتے ہیں۔اس وقت ہماری مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ تبلیغی ٹریکٹیوں کی اشاعت تک سے ہم عاجز تھے۔ایسے حالات میں میں نے تحریک جدید جباری کی اور اس کا ایک حصہ ریمز رو فنڈ کا رکھا۔جب تمیں نے اس کے لئے تحریک کی تو مجھے پتہ نہ تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں۔اس وقت میں نے جو تقریر کی اس کے الفاظ کچھ ایسے مہم تھے کہ جماعت نے سمجھا کہ تین سال کے لئے چندہ مانگ رہے ہیں۔اور وہ اکٹھا دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مثلاً کسی کا ارادہ سور و پیر سال میں دینے کا تھا تو اس نے تین سال کا چندہ تین سو رو پیدا کٹھا دے دیا۔ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صحیح مفہوم سمجھا۔مگر ایسے بھی تھے جنہوں نے غلط سمجھا اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ایک لاکھ سات ہزارہ کے وعدے ہوئے جب دوسرے سال کے لئے تحریک کی گئی تو بعض لوگ کہنے لگے ہم نے تو تین سال کا اکٹھا چندہ دے دیا تھا اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔میں نے کہا یہ طوعی چندہ ہے آپ اب نہ دیں۔مگر انہوں نے کہا ہم تکلیف اٹھائیں گے اور خواہ کچھ ہو اب بھی ضرور چندہ دیں گے۔اسی طرح انہوں نے تین سال کے لئے ہو اکٹھا چندہ دیا تھا دوسرے سال اس سے زیادہ دیا کیونکہ وہ مجبور ہو گئے کہ اپنے اخلاص کو قائم رکھنے کے لئے چندہ پہلے سے بڑھا کر دیں۔بعض مخلص ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنا سارا کا سارا افضل 4 اپریل صفوی) کالم وہ جماعت احمیہ کی شاندار مالی قربانی کے مقابل عوام نے دس کرد مسلمانان ہندی مائندگی کے دو یا ایک ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس کی فقط ایک مثال کافی ہے۔ارنومبر ۹۳۵ار کو مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت احرار نے مسجد خیر الدین امر تسر میں ایک تقریر کی۔الفضل کے نامہ نگار خصوصی برای مطابق بخاری صاحب نے کہا۔مسلمانو یا لیکن تم کو چھوڑنے کا نہیں ہوں۔مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا بلکہ مر کر بھی نہیں چھوڑوں گا کیونکہ مرنے کے بعد میرا بیٹا تم سے چندہ لے گا جب میں تم کو نہ اس جہان میں چھوڑنے والا ہوں میں جہاں میں تو پھر انہیں چندہ دینے میں کوئی عندا نہیں ہوتا چاہیئے (یہ کہکر انہوں نے حاضرین کی طرف دیکھنا شروع کیا۔مگر ان کے کاسہ گدائی میں کسی نے ریگ جبتہ تک نہ ڈال) پھر کہا بولتے کیوں نہیں چُپ کیوں ہو گئے۔کیسے ڈھیلے کرد۔لوگوں نے اٹھ کر جانا شروع کر دیا" (الفصل الار قومبر ۱۹۳۹ صفر و کالم ۴) "