تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 615 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 615

۵۹۰ کی برکات سے متمتع نہ ہوئی ہو۔بلکہ حق تو یہ ہے کہ خود جماعت بھی پورے طور پر ان خطرات کی حقیقت سے آگاہ نہیں۔جن سے حضور نے جماعت کی حفاظت کا انتظام فرمایا۔اور نہ ہی وہ پورے طور پر ان برکتوں اور متوں پر آگاہی کی ہے۔جو حضور کی خلافت کے دوران اسے حاصل ہوئی۔سید نا حضور کی خلافت صرف تبلیغی اور تربیتی برکات سے ہی مزین نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے اسے ہر رنگ کی برکات اور ہر میدان کے فضائل اور حسنات سے نوازا ہے۔ہم اس بات کے اظہار کی طاقت نہیں پاتے۔کہ ہمارے والوں میں کس قدرا انبساط و امتنان کی لہریں موجزن ہوتی ہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا سردار اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید کے ساتھ زیاد کے ہر میدان کا شہسوار ہے۔وہ معرفت الہی اور تقوی اللہ کا ایک زبر دست مجود ہے۔وہ نور قرآن اور علوم دین کا ایک وسیع سمندر ہے۔وہ انکا بہ اسلام اور شریعت کی باریک در باریک حکمتوں کا ایک کامل استاد ہے۔اور انسان یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا اس ماند میں یہ شعر اسی کے لئے کہا گیا ہے کہ ہے از رموز شروع و حکمت با هزاران انتختلاف نکتہ ہرگز نہ شد فوت از دل دانا ئے تو سید نا ! ابتدائے ایام خلافت سے ہی حضور نے نظام جماعت کی بنیاد ایسے اسلوب پر رکھی۔جو اعلی سے اعلی دماغوں کیلئے باعث رشک عبرت اور وابستگان خلافت کیلئے باعث ناز و فخر ہے۔سیاسیات دیلی اور ملکیہ میں حضور نے ہر موقعہ پر نہ صرف جماعت کی۔بلکہ تمام ملک کی وہ رہنمائی فرمائی۔جن پر اغیار بھی صدق دل سے شاہر ہیں۔حق تو یہ ہے کہ اگر دنیوی میدان میں بھی مدبران اور سیاست وان ان اصولوں پر کار بند ہوتے۔جن کی حضور نے آج سے ۱۵ سال قبل تلقین فرمائی تھی۔تو دنیا اس خطر ناک مصیبت میں گرفتار ہونے سے بیچ بھاتی۔جس کا رو آن شکار بن رہی ہے۔غرض ہندستان حیات انسان کو کوئی قطعہ ایسا نہیں جس کی آب پاشی کا سامان الہ تعالی نے اس زمانہ میں اپنے فضل ور رحم کے ساتھ حضور کے ذریعہ نہ فرمایا ہو۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ سے محبت کرتے اور اُس کے قرب کی تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔وہ اس چشمہ سے سیراب ہورہے ہیں۔اندر اس چشمہ کی دعوت نامہ ہے کہ تو چاہے آئے۔اور اپنی پیاس کو بجھائے۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی وہ قومیں بھی جو ابھی تک پاس چشمہ کے حیات بخش پانی سے محروم ہیں۔جلد یا بدیر اس سے شادابی حاصل کریں گی۔سید نا ہماری نظریں وہ وسعت نہیں۔اور نہ ہی سے قلم میں وہ طاقت ہے کہ حضور کے فضائل