تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 608
۵۸۵ اس سے بہت زیادہ ہونگے۔نیز معلوم ہوا کہ جب صحابہ کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ ایک پیسہ سے زیادہ چندہ نہیں لیا جائے گا۔اسلئے مزید روپے کے لئے دوبارہ اپیل شائع کی گئی۔اور ایک خاص محصل کے ذریعہ کوشش کی۔اور قادیان اور اسکے اردگرد کے علاقہ میں اُن دنوں جو صحابہ موجود تھے۔اُن سے خاص طور پر چار آنے تک کی رقم فراہم کی۔اور بعض نے اس سے بھی زیادہ رقم عطا فرمائی۔اس طرح ایک سو تیس روپے کے قریب جمع ہوگیا۔روٹی کی خرید کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو یہ خیال پیدا ہوا۔کہ اگر ایسی کپاس مل جائے، جسے صحابیوں نے کاشت کیا ہو۔توبہت اچھا ہو۔چنانچہ حضور کو اطلاع ملی کہ سندھ میں اس قسم کی کپاس موجود ہے۔گو وہاں سے تو ایسی کپاس نہ مل سکی۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضور کی اس مبارک خواہش کو اور طرح پورا فرما دیا۔اور نہ اس طرح کہ میاں فقیر محمد صاحب امیر جماعت احمدیت و نجوان ضلع گورداسپور و صحابی ہیں قادیان تشریف لائے۔اور کچھ سوت حضرت ام المومنین کی خدمت میں پیش کیا۔اور عرض کیا کہ کہیں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے ہاتھ سے بیج بویا اور پانی دیتا رہا اور پھر چنا اور صحابیوں سے دھوایا اور اپنے گھر میں اسکو کھوایا ہے۔یہ سوت پہنچنے پر مولانا عبد الرحیم صاح بے کے سیکرٹری خلافت کمیٹی نے امیر جماعت احدیہ و نجوں کو پیغام بھیجی کہ ان کے پاس اگر ان کی کاشت کی ہوئی روٹی میں سے کچھ اور ہو تو وہ بھی بھجوا دیں۔جسپر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے ذریعے مزید آٹھ دس سیر روٹی قادیان پہنچ گئی جو مولانا ر د صاحب نے حضرت سیدہ ام طاہر صاحب جنرل سیکرٹری جند اماءاللہ کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ بھیجدی کہ وہ صحابیات کے ذریعہ حضرت اقدس کے ارشاد کے ما تخت اس روٹی کا سوت طیار کروالیں۔چنانچہ انہوں نے نہایت مستعدی کے ساتھ دار مسیح موعود ہمیں صحابیات سے سوت کروادیا۔جسے صحابی بافندگان کے کے ذریعے قادیان اور تلونڈی میں کپڑا بنوایا گیا۔بھنڈے کا سائز کیا ہو ؟ اس امر کی نسبت کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ کپڑا اٹھارہ فٹ لمبا اور 4 فٹ چوڑا ہو۔ر اس فیصلہ کے مطابق تیار شدہ کپڑے کو مطلوبہ سائز میں بدلنے میں صحابی درزیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔گرا بھی اس کپڑے کے اوپر جھنڈے کی شکل نفت کروانا باقی تھا۔اس اہم کام کیلئے ملک عطاء الرمان ما مجاہد تحریک جدید نے بہت دوڑ دھوپ کی۔اور شاہدرہ سے اس کام کو تکمیل تک پہنچایا۔نیز حضر صاجزادہ افظ مرزا ناصر احد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے مجلسی اور ذاتی دونوں لحاظ سے بہت پھیپی لی۔جھنڈے کے پول کے معاملہ میں ممبران کمیٹی کو بہت غور و خوض کرنا پڑا۔ایک لمبی بحث کے بعد سے ان میں سے ایک بزرگ میاں خیر الدین صاحب دری بات تھے۔جو وفات پاچکے ہیں ؟