تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 609
۵۸۶ ۶۲ آخری فیصلہ کرنا پڑا کہ پائپ کرائے پر لیکر کام چلایا جائے کیونکہ لکڑی بہ نٹ میں خوبصورت اور سیدھی ملنا مشکل تھی۔اور اس کے کھڑے کرنے کا سوال بہت ٹیڑھا تھا۔گو وقت بہت تھوڑا تھا۔لیکن با بو کبر علی صاحب کی کوشش سے کام خیر وخوبی سے انجام پا گیا۔فالحمد لہ علی ذالک لیے فصل سوم خلافت جو بلی سے متعلق ابتدائی تجاویز اور ان کے عملی جامہ پہنانے کی تفصیلات پر روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ جلسہ خلافت جوبلی کی تقریب کسی طرح شاندار طریق سے مگر سادہ، پُر وقار اور خالص اسلامی ماحول میں منائی گئی۔خلافت جوبلی کی تقریب کی خوشی میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی منارہ اسی پر چراغاں نے صرف اتنا ہی پراناں کرنے کی اجازت دی تھی۔اس لئے منارة السی کو چوٹی سے لیکر پہلی منزل تک بجلی کے قمقموں سے مرصع کیا گیا۔اور گور دوسرے ایام میں بھی تھوڑے تھوڑے وقت کے لئے یہ قمقمے روشن کئے جاتے رہے۔لیکن ۲۷ دسمبر کو رات بھر مینار جنگم گاتا رہا جس نے قادیان کی فضاء کو بیچ بیچ بقعہ نور بنا دیا۔جماعت دار جلسہ گاہ میں جانے کا نظارہ درد بھر شادی کی صبح سے خلافت جوبلی کی مبارک تقریکا پروگرام شروع ہوا۔تمام جماعتیں ساڑھے نوبجے پی اپنی فرودگاه سے جلسہ گاہ کی طرف آنے لگیں۔ہر جماعت کے ساتھ اُس کا جھنڈا تھا جسے دو آدمی اُٹھائے ہوئے تھے، در سیر اس جماعت کا نام اور بعض دعائیہ فقرات لکھے تھے۔اس طرح مختلف علاقوں اور مختلف ممالک کی جماعتیں درثمین کے اشعار پڑھتی اور خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتی ہوئی جلسہ گاہ میں پہنچیں۔تمام جھنڈے جلسہ گاہ کی گیلریوں کے اُوپر کے حصہ میں کھڑے کر دیئے گئے۔ایسے جھنڈوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریقی۔ا بجکر ۵۰ منٹ پر حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی مو سٹیج پر جو سیدناحضرت سیح موعود علیہ السلام کے وقت کی جلسہ گاہ کے برابر تھام تشریف لائے۔اُس وقت سیٹیج کا سائبان اتار دیا گیا۔تاکہ تمام مجمع ا کرو نیدا و جلسه خلافت جو علی مرتبہ مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم اسے سیکرٹری خلافت جوبلی۔ناشر منیجر بیک ڈیو تالیف و اشاعت تازیان و له الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۲۹ ۶ صفحه ۲ کالم : / میشه