تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 591
AYA بحال ہوگئی۔اور وہ تھوڑا بہت سفر کر نے کے قابل ہو گئیں۔گوجر پڑا ؤ سے چل کر دو تین میل کے فاصلہ پر گھوڑے کی سواری مل گئی۔جس پر حاجی صاحب کی والدہ صوار ہوگئیں اور اسکے بعد تھوڑی دور جانے پر ہمشیرہ کے لئے بھی سواری کا انتظام ہو گیا۔سامان وغیرہ قلیوں نے اٹھایا ہوا تھا۔اس روز کا سفر نسبتا آرام سے ہوا۔اور عصر کے وقت یہ قافلہ ریاست دبیر میں پہنچا۔یہاں رات آرام سے بسر کر کے صبح ۱۲ جنوری و لاری پر ڈر گئی پہنچ گئے۔وہاں سے ریل پر سوار ہو کر ۱۳ جنوری کو امرت سر آپہنچے۔اور ہم ار جنوری کی صبح قادیان دارالامان میں وارد ہوئے میلہ اس کے بعد ستمبر کو اجی صاد کے بڑے بھائی حکیم سید آل احد صاحب اور حکیم صاحب کے بیٹے امان الله خان بھی انہی دشوار گزار رستوں سے گزرتے ہوئے قادیان آپہنچے۔اور حضرت خلیفہ مسیح کے دست مبارک پر بعیت کرلی۔اور پھر یہ خاندان قادیان میں ہی رہائش پذیر ہوگیا۔مگر ۱۹۳۷ء کے فسادات میں اسے دوسرے احمدیوں کے ساتھ ہی پاکستان میں پناہ گزین ہو نا پڑا۔پاکستان آکر باجی جنود اللہ احد نے سرگودھا میں بودوباش اختیار کرلی۔اور حکیم سید آل احمد صاحب مسجد حد یہ راولپنڈی (واقع مری روڈی کے ایک کمرہ میں مقیم ہو گئے۔جہاں آپ کا، د دسمبر دو کو انتقال ہوا۔اور موصی نہ ہونے کے با وجود محض اپنے تقوئی پر بہیز گاری اور دین داری کے سبب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجاز سے بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے ملے قریشی محمد نذیر اح اف ملتانی پر احمدآباد کا یادوں کی حد یہ جماعت تین نفوس پر ملی تھی۔جن میں شیخ رحمت اللہ صاحب کا ٹھگڑھی رہے پرانے اور غریب احمدی قاتلانہ حملہ او معجزانہ شفایابی تھے۔اسکے مقابل قصب میں اٹھارہ ہزار سرحدی پیمان بود باش رکھتے تھے۔جن کے ملاؤں نے احمدیوں کو کا فرادر واجب القتل قرار دیکر قصبہ میں سخت اشتعال پیدا کر دیا۔ان کا فر گروں نے ایک بار حکیم شیخ رحمت اللہ ماء سے کہا کہ یا تو بہ کردیا ہمارے ساتھ مباحثہ کرلو۔حکیم صاح نے قادیان میں اطلاع دی جس تیپ مرکز کی طرف سے قریشی محمد نذیر صاحب فاضل ملتانی روانہ کرئے گئے۔جو ا ر نزیہ شاہ کو احمد آباد پہنچے۔اور ہ ا نومبر شاہ کو شوکت میدان میں مناظرہ قرار پایا۔مگر سارن روزنامه المفضل قاديار -- تجمل ٣ D۔۔۔ه مب ے۔آپ جلد ہی ایک قافلہ کے ہمراہ واپس پہنے گئے نے ه - الفضل ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۵۹ء ص ۲