تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 592
۵۶۹ قریشی صاحب جب مقررہ وقت پر شوکت میدان کے ہوئی میں پہنچے تو ایک شخص نے آپ کے پیٹ میں چا تو گھونپ دیا۔اور ناف کے قریب بائیں جانب چھ اپنی گہرانہ خم ہو گیا۔آپ خود ہی بھاگے ہوئے شرکت میدان سے تھانہ میں گئے۔جہاں سے آپ ہسپتال پہنچا دئے گئے۔پہلے پٹی باندھی گئی پھر اپریشن کیا گیا۔تین روز تک حالت سخت تشویشناک رہی۔قادیان سے ایک تو حکومت بمبئی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ احمد آباد کو توجہ دلائی گئی۔دوسر قادیان سے ملک عبدالعزیز صاحب اور حکیم فیروز دین صاحب مولوی صاحب کی تیمارداری کے لئے احمد آباد بھیجے گئے۔یہ اصحاب ۷ار نومبر کو احمد آباد پہنچے اور اطلاع دی کہ اگرچہ پہلے تین روز زندگی کی کوئی اُمید نہیں تھی۔مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور دوسرے بزرگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ الہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی حالت خطرہ سے باہر ہے یہ قریشی صاحب موصوف اکیس روز تک سول ہسپتال میں صاحب فراش رہنے کے بعد در سر کو قادیان تشریف لے آئے۔جہاں آپ کے زخم خدا کے فضل وکرم سے جلد جدار مندل ہونے لگے۔اور آپ شفایاب ہو کر بدستور خدمت سلسلہ میں مصروف ہو گئے۔پیشوایان مذاہب حضرت خلیفہ ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ن نے دنیا میں عموما در این داستان میں خصوصا مذہبی نفرت و حقارت اور کشیدگی کم کرنے کیلئے م۲۵ مرد اور کی بنیاد میں سیرت النبی کے مبارک جلسوں کی بنیاد رکھی تھی۔جو عوامی فضا کو ه - اخبار الفضل (۲۳ نومبر ۱۱۳ ص ۲ کالم : ) پر اس حادثہ کی تفصیلات نہیں لکھا ہے۔کہ معلوم ہوا ہے ایک پٹھان کا اس واردات میں ہاتھ ہے۔اور اس واردات کا منصوبہ ان لوگوں نے پہلے باندھا ہوا تھا۔حکیم رحمت اللہ صاحب کو بھی انہوں نے یہ کہ کہ کہ منظر میں ہم حقیقت معلوم کر کے تمہارے ساتھ ہو جائیں گے۔دھو کر دیا۔اس دھو کے میں آکر حکیم صاحب نے مناظرہ کا ارادہ کیا۔اور شوکت میدان میں مناظرہ مراد پایا۔پاس کے ایک ہوٹل میں سب کا نام بسم اللہ ہے۔اسکے متعلق بات چیت ایک ہندوستانی مولوی سے ہو رہی تھی کہ چند میٹھاں وہاں پہنچے۔مولوی محمدند بر او نے پوچھا۔مناظرہ کی اجازت لی گئی ہے یا نہیں؟ اور کیا حفظ امن کا انتقام کیا گیا ہے۔اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ہیں اس کی ضرورت نہیں۔ہجوم نزیادہ ہونے پر سب لوگ ہوٹل سے باہر آ گئے۔اور باہر آنے پر یہ حادثہ ہو گیا۔حملہ آور ایک گجراتی نوجوان ہے۔یہاں حکیم صاحب کے علاوہ صرف دو اور احمدی ہیں۔نیکو قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔یہ 1474 کے الفصل ۲۴ نومبر ۱۹۳۹ء ص : ه الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۳۹ مس کالم مرا به