تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 588
040 معلوم ہوگا۔کہ وہ کہتے ہیں۔کہ اب احمدی تو دعا کر چکے۔اب ہم دعا کریں گے۔اور ہماری دعاؤں سے بارش ہوگی۔تو مجھے اس سے بھی تکلیف ہوئی۔اور میں نے دل میں کہا۔کہ افسوس یہ لوگ اللہ تعالٰی کی دینی نعمد سے تو محروم تھے ہی۔مگر دنیوی نعمتوں کا دروازہ کھلا تھا۔جیسے انہوں نے اس طرح بند کر لیا۔جب مجھے اس کی اطلاع ہوئی تو میں نے کہا۔کہ چونکہ انہوں نے مقابلہ کا رنگ اختیار کیا ہے۔اس لئے اب انکی دعا نہیں سنی جائے گی۔اور تین روز تک تو بارش نہیں ہوگی۔تب میں واپس آیا۔تو رستہ میں مجھے مولوی ابو العطاء صاح ہے۔میں نے دریافت کیا۔کہ احرار نے ۲۶ ر تاریخ کو دعا کی تھی۔اب تک بارش تو نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا۔نہیں ہوئی۔میں نے کہا۔خیر اب تین دن گزر گئے ہیں۔مولوی صاحب نے کہا۔کہ آپ کا انتظار تھا۔اب ہو بھائے گی۔میں نے اسی وقت آسمان کی طرف نگاہ کر کے دُعائی۔کہ اپنی تیرا بارش کا قانون تو عام ہے۔وہ خاص بندوں سے تعلق نہیں رکھتا۔مگر بعض اوقات دل میں اُمید پیدا ہو جاتی ہے۔جو اگر پوری نہ ہو۔تو بعض اوقات ابتلاء پیدا ہوتا ہے۔اور اگر پوری ہو جا تو تقویت ایمان کا موجب ہوتا ہے۔اور میں نے دُعا کی۔کہ ہر گھنٹے کے اندر اندر بارش ہو۔رات کو میں نے انتظار کیا صبح دس بجے کے قریب میں اندر بیٹھا تھا۔کہ روشندانوں پر چھینٹے پڑنے کی آواز آئی۔بالکل معمولی توشیح تھا۔میں نے دعا کی۔خدایا ایسی بارش تو کافی نہیں۔مخلوق کو تو ایسی بارش کی ضرورت ہے جس سے لوگ میاب ہوں۔اس کے کچھ وعدہ بعد ا ا ا ا ا ا ا ر و ر کر دی صفائی کر رہے تھے انہیں دیکھو کہ کام ختم کر چکے ہیں یا نہیں۔میں نے دُور ایک چھوٹی سی بدلی دیکھی اور دُعا کی۔کہ خدایا اسے بڑھانےسے اور پھیلا دے۔اور پندرہ منٹ کے بعد میں نے دیکھا کہ بارش شروع ہو گئی۔اور پانی بہنے لگا۔تو یر ایک نشان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے اب تک ترکستان کے علاقہ میں احمدیت کی آواز نہ پہنچی تھی مگر مجاہدتحریک لبید ترکستان کے پہلے محمد رفیق تعالی تبلیغ سے شہ میں احمدیت کا بیج بویا گیا اور اس سے پہلے کی احمدی خاندانی ہجرت کا شہر کے ایک نوجوان حاجی بنود الله ماست حلقہ بگوش احدیت ہوئے۔جو پنے وطن سے چل کر عینی ترکستان اور کشمیر کے برفانی اور دشوار گذارہ کو ہستانی علاقے کے کرتے ہوئے الفضل و ستمبر ٣ م : ہے۔عمایی جنود اللہ صاحب کا شعر کے ایک ایسے مقتدر خاندان سے تعلق رکھتے تھے جبر کا شمار وہاں کے چوٹی کے مربہ کردہ اور معزز خاندانوں میں ہوتا تھا۔مگر کمیونزم کے اثر و اقتدار کیوجہ سے جہاں دستر مسلمان تباہ حال ہوئے۔وہاں اس خاندان کی ظاہری شان و شوکت بھی خاک میں مل گئی۔>