تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 582
۵۵۹ مجلس احرات الاحمدیہ کا قیام صاحبزادی امتنا الرشید مصاحبہ کی تحریک پر ہوتا۔چنانچہ صاحبزادی صاحبہ کا بیان ہے کہ جب میں دینیات کلاس میں پڑھتی تھی۔میرے ذہن میں یہ تجویز ایک جس طرح خواتین کی تعلیم وتربیت کے لئے لبناء القت قائم ہے۔اسی طرح لڑکیوںکے لئے بھی کوئی مجلس ہونی چاہئے۔چنانچہ کم محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی بیگم صاحبہ اور مکرم محترم حافظ بشیر الدین صاحب کی بیگم صاحبہ اور اسی طرح اپنی کلاس کی بعض اور بہنوں سے اس خواہش کا اظہار کیا۔اور ہم سب نے مل کر لڑکیوں کی ایک انجمن بنائی جس کا نام حضرت اقدس ایده الله نصرہ العزیز کی منظوری سے ناصرات الاحمدیہ رکھا گیا۔شروع میں تو اس کے اجلاس بھی ہمارے اسکول میں ہی ہوتے رہے۔اور اسکول کی طالبات ہی اسکی مہرہ ہیں۔لیکن میر بیا شادی کے بعد جیب میں سندھ چلی گئی۔تو اس مجلس کا انتظام لجنہ اماءاللہ نے سنبھال لیا۔اور اس کے زیر از نظام اس مجلس کے امور سر انجام پاتے رہے یا یرالمومنین کی طرف سے حضرت امیرالمومنین اپنے زمان خلافت کے ابتدا ہی سے حضرت امیرا مسلم لیگ کو مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ سیاسی جماعت سمجھتے آل انما سلم لیگ کی زبر دست تائید تھے اور اس کی بات کانگریس سے وابستگی سلم مفادات سے لیا بے اعتنائی کے مترادف قرار دیتے تھے۔چنانچہ جولائی 14ء کا واقعہ ہے کہ منڈی بوریوالہ ضلع مانستان کے ایک دوست چوہدری محمد اکبر صاد نے ۱۲ جولائی ۲۷ مرد کو حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کی خدمت میں تحریر کیا۔کہ ہمارے علاقہ میں یقین کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کی قوت دوتا نوں اور نگر یانوں کی قوت کے مترادف ہے۔جبتک ان کو شکست نہ ہو ہم آباد کار اٹھ نہیں سکتے۔اگر یہاں ہم نے کانگرس کو تقویت بودم اگر ہونے دی اور کانگریں کامیاب ہو گئی تو یقینا کا نگری ہمارے مفاد کا خیال رکھے گی اور اگر یہاں کانگریس فیل بھی ہو گی پھر بھی دوستانوں کو ہماری قدر کرنی پڑیگی اور اگر ہم الگ الگ ہے تو میں کوئی بھی نہیں پوچھے گا یہ ہے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس خط پر اپنے قلم مبارک سے جو الفاظ رقم فرمائے وہ احمدیت اور مسلم لیگ دونوں کی تاریخ میں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔حضور نے تحریہ فرمایا کہ:- " مجھے آپکے متعلق ذاتی واقعیت نہیں۔بہتر ہوتا آپ کسی واقف محمدی سے لکھواتے یہ سوال ه خطا صاحہ اوی دسته الرشید صاحیہ بیگم می داریم مرات - مکتوب محره ۲ جولائی تا ہے