تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 36
نیز فرمایا :- ۳۳ میں یقین رکھتا ہوں، عالی یقین نہیں بلکہ ایسا یقین جس کے ساتھ دلائل میں اور جس کی ہر ایک کڑی میرے ذہن میں ہے اور اس یقین کی بناء پر میں کہتا ہوں کہ گو جوشیلے لوگوں کو وہ سکیم پسند نہ آئے لیکن ہماری جماعت کے دوست اس کیم پر سچے طورپر میل کریں تو یقینا یقیناً فتح ان کی ہے " کمزور طبع احمدیوں کا اضطراب اور جماعت احمدیہ کے مخلصین نے اس تحریک پر کس شاندار طریق سے لبیک کہا۔اس کا ذکر اگلی فصل میں آرہا ہے۔اس جگہ ہم بتانا چاہتے حضرت امیر المومندی کا ایمان افروز جواب ہیں کہ منافقین پر اس تحریک کا کیا رد عمل ہوا۔حضرت خلیفہ ایسے الی مینی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- گئی نادان ہم میں ایسے بھی ہیں کہ جب تحریک بدید کے خطبات کا سلسلہ میں نے شروع کیا تو وہ اور قادیان کے بعض منافق کہنے لگ گئے کہ اب تو گورنمنٹ سے لڑائی شروع کر دی گئی ہے۔بھلا گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے ان کی اتنی بات تو صحیح ہے کہ گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے مگر اس لحاظ سے نہیں کہ گورنمنٹ بڑی ہے اور ہم چھوٹے بلکہ اس لحاظ سے کہ ہم بڑے ہیں اور گورنمنٹ چھوٹی اگر ہم خدا تعالے کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں اور یقیناً اسی کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں تو پھر اگر ہم مر بھی جائیں تو ہماری موت موت نہیں بلکہ زندگی ہے۔۔۔۔اللہ تعالے کی جماعتیں کبھی مرا نہیں کرتیں حکومتیں مٹ جاتی ہیں لیکن انہی سلسلے کبھی نہیں مٹتے حکومت زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتی تھی کہ ہم میں سے بعض کو گرفتار کرلیتی یا بعض کو بعض الزامات میں پھانسی دے دیتی مگر کسی آدمی کے مارے جانے سے تو الہی سلسہ ختم نہیں ہوتا۔بلکہ الہی سلسلوں میں سے اگر ایک کرتا ہے تو خدا تعالی اس کی جگہ دس قائم مقام پیدا کر دیتا ہے" سے تحریک بدید کی تفصیلات ” الفضل" کے ذریعہ منظر عام پر آئیں تو کئی غیر امریکی تحریک جدید کا اثر غیروں پر اصحاب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے بہت پسند کیا۔اور بعض غیر احمدی امراء کے گھرانوں نے اس کے بعض مطالبات اپنے ہاں رائج بھی کر لئے۔اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کے متعدد خطوط موصول ہوئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ تحریک جدید سے بہت متاثر ہیں اور اس کے " نه تخلیه مینه فرموده هم جنوری ۱۱۳ مطبوعه الفضل در جنوری ۱۹۳ صفحه به کالم ۹۳ نے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ صفحه ۲۱-۲۲ *