تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 565
۵۴۴ کسی نہ کسی زمانہ میں الہام الہی کے دروازے کھولے گئے جماعت احمدیہ کے عقائد کی وسعت نظر اور ہر گیری کی ایک اور مثال اسلامی مسئلہ جہاد کے متعلق آپ کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم میں ملتی ہے۔ہم غیر مسلموں کے لئے یہ معامہ دارالحرب اور دارالاسلام کی یہ تقسیم مسلموں اور غیر مسلموں کے در میان مستقل تنازعہ کا یہ تصویر ہمیشہ سے ناقابل فہم اور پریشان کن رہا ہے۔بہار و مذہب اپنے اندر ایک ہمہ گیر اور وسیع اہل رکھتا ہے۔یہ روحانی صداقت کو کسی ایک فرقہ یا قوم کے اجارہ میں منصور نہیں کرتا۔ہمارے نزدیک تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔لیکن میں رنگ میں ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی مذہبی جماعت کے لوگ یعنی مسلمان مسئلہ جہاد کو پیش کرتے ہیں۔اس سے ہمیں ہمیشہ تعجب ہوتا ہے۔لیکن آپ کی جماعت کے بانی علیہ الصلوۃ والسلام ) نے جو کہ صلح اور اشتی کی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیتے رہے ہیں جہاد کو ایک اعلیٰ اخلاقی سطح پر پہنچا دیا۔چنانچہ آپ نے اس امر کی اشاعت فرمائی کہ جہاد جیسے دوسرے مسلمان غیر مسلموں سے جنگ کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں وہ فی الحقیقت اس کوشش کا نام ہے جو حق و انصاف کے لئے کی جائے اور اس سے مراد و سعی اور جنگ ہے جو ہر قسم کی برائی کے خلاف عمل میں لائی جائے۔جہاد کی اس تشریح سے آپ نے دار الحرب یعنی جنگ و جدال کی دنیا کے اندوہناک تصویر کا خاتمہ کر دیا ہے اور تمام دنیا کو دار السلام و صلح و آشتی کی دنیا ) میں تبدیل کر دیا ہے۔فی الحقیقت جماعت احمدیہ کی تعلیم اپنی نوعیت میں دور حاضرہ کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔بانی جماعت احمدیہ نے جب یہ دعوی کیا کہ وہ گذشتہ پیشگوئیوں کے مطابق مبعوث ہوئے ہیں اور یہی مہدی معہود اور مسیح موعود نیز علی زماں ہیں تو میرے خیال میں اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ ہر زمانہ کے لئے ایک نبی ہونا چاہیے جو صداقت ازلی کو اس زمانہ کی ضروریات کی روشنی میں دوبارہ دنیا کے سامنے واضح کرے اور اسے اس فریسیا نہ تنگ ظرفی سے پاک کر دے جو مرور زمانہ سے تمام مذاہب کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اس نقطہ نگاہ سے وہ لوگ بھی جو خوہ آپ کی جماعت کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا نہ ہوں مجھاتے احمدیہ کے بانی کو دل سے ایک سچا اور بہت بڑ اپنی تسلیم کر سکتے ہیں۔بہر حال خالص دنیوی اور تاریخی بانی اور زاویہ نگاہ سے یہ امر تمام دنیا کو ستم ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کی تحریک دور حاضرہ میں اسلام کی ایک بہت بڑی اصلاحی تحریک ہے جس میں خیر و برکت کی لا انتہاء قوتیں