تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 561
۵۴۰ ہنہ ڈان اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑ ایس یا ہو گی ہندو آپ کے جسم کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان اسلامی طریقہ کے ساتھ دفن کرنا۔آخر آپ کے جسم کی چادر کے کپڑے کو آدھا مسلمانوں نے لیا اور آدھا بنا نوں نے اور دونوں نے اپنے رسم ورواج کے مطابق دفن کیا۔اور جلایا۔گورو نانک کی اس ہر دل عزیز پوزیشن میں جبکہ ہندو اور مسلمان دونوں ہی آپ کو اپنا سمجھتے ہیں۔ٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک مجسٹریٹ کا فیصلہ تحجب اور حیرانی کے ساتھ پڑھا جائے گا جس میں اس مجسٹریٹ نے ایک مسلمان ماسٹر عبد الرحمن کو چھ ماہ قید کی سزا اس جرم میں دی ہے کہ آپ نے ایک پمفلٹ " بابا نانک رحمت اللہ علیہ کا دین دھرم میں گورو نانک کو مسلمان ظاہر کیا تھا۔اس فیصلہ کی نقل ہمارے پاس موجود نہیں اور ہم نہیں کہ سکتے کہ اس سزا کی تائیار میں مجسٹریٹ نے کیا دلائل دی ہیں مگر اس صورت میں کہ الزام وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا تو اس مجسٹریٹ کی کو نہ نظری میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آج وہ پادری بھی این مسلمان ملزم کی طرح ہی مجرم ہیں جو مہاتما گاندھی کو انتہائی نیک اور پارسا ہونے کے باعث عیسائیوں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔کیونکہ اس مقدمہ کے ملزم ماسٹر عبدالرحمن نے بھی اگر گورو نانک کو سلمان کہا تو اس لئے کہ آپ اسلام کو حق وصداقت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اور آپ کے خیال میں گورو نانک انتہائی نیک اور مقدس ہونے کے باعث مسلمانوں کی صفات رکھتے ہوئے مسلمان تھے۔اگر ماسٹر عبد الرحمن نے اپنے خیال کے مطابق گورنہ نانک کو مسلمان لکھا تو آپ نے گورو نانک کی تو مین نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی عزت و احترام پیدا کرنے کی کوشش کی۔اور ہماری سمجھ میں نہیں آتا کن اس صورت میں ماسٹر عبدالر مین گورد تانک کی تو میں کرنے کے کیونکر مجرم ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ ماسٹر عبد الرحمن اس فیصلہ کی اپیل کریں اور صحیح پوزیشن بتاتے ہوئے اعلیٰ عدالت سے بری ہوں۔کیونکہ قانونا اور اصول ماسٹر عبد الرحمن کو مجرم قرار دینا ایک تمسخر انگیز فیصلہ ہے اور اس فیصلہ کے مطابق ہر وہ شخص جو دوسری اقوام کے بزرگوں کو بزرگ سمجھے مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔" اخبار المحدیث کا تبصرہ اسی طرح جناب مولوی ثناء امت صاحب امرتسری نے اخبار المحدیث میں لکھا: قادیان کے ایک مصنف کو سٹرائے قیار اور جرمانہ : - قادیان میں ایک صاحب ماسٹر عبد ال جی نوکم ہیں جنہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام بابا نانک کا دین ددھرم ہے۔چونکہ مصنف مذکور اس سے پہلے