تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 560 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 560

۵۳۹ مسجد اقصٰی میں لاؤڈ سپیکر آلہ نشر الصوت) کی تنصیب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ر دسمبر ۱۹۳۷ء کو مسجد اقصٰی میں لاؤڈ سپیکر لگانے کی تاکید فرمائی جس پر صوبہ سرحد کے خان صاحب فقیر محمد خان صاحہ نے اپنے آقا کا منشاء مبارک اپنے فریج سے پورا کر دیا۔اور حضور نے پہلی بار مجبوری شام کو اس آلدہ کے ذریعہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں ثابت کیا کہ آلہ انشر الصوت اپنے عقیدہ شرک پر کاری ضرب لگائی ہے لیئے حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب حضرت اش را با این صاحب و سلم سابق سنگھ نے سکھ لڑ پر کی روشنی میں صداقت اسلام پر کئی کتابیں لکھی تھی اس سلسلہ میں نوسلم کی قید اور سنائی۔آپ نے ایک تبلیغی ٹریکٹ ، بیا ان میمه شده میگه دین در هرم بھی لکھا جس کی بناء پر آپ کو سکھ مجسٹریٹ علاقہ بھائی جسونت سنگھ نے ۲۴ جنوری ۱۹۳ کو زیر د تعد ۱۸- ایکٹ سے چھ ماہ قید بامشقت اور ایک سو روپیہ جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں ڈیڑھ ماہ مزید سخت قید کی سزادی۔سزا کا حکم حضرت ماسٹر صاحب نے نہایت بشاشت اور خوشی کے ساتھ شناس اور جب ہتھکڑی پہنائی گئی تو انہوں نے اسے چوما اور جیل خانہ جاتے ہوئے نوجوانان احمدیت کو پیغام دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت بابا نانک رحمہ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کی جو صداقت پیش کی ہے۔وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں کیے حضرت ماسٹر صاحب اس کے بعد پہلے گورداسپور جیل میں رہے پھر میانوالی جیلی کی طرف منتقل کر دیئے گئے۔جسٹریٹ علاقہ کا یہ فصیل اس درجہ اہم اور غیر معقول تھا کہ سکے فرار کے حلقوں اختیار ریاست کا نوٹ میں مجھ سے حیرت و استعجاب کی نظر سے دیکھا گیا۔چنانچہ مشہور سکھ صحافی سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون نے اپنے جریدہ "ریاست د ر جنوری ۱۹۳۷ء میں گورو نانک کو مسلمان کہنا جرم ہے ؟" کے عنوان سے حسب ذیل لیڈنگ آرٹیکل لکھا :۔گورو نانگ ایک ایسی مقدس شخصیت اور صلح کی پالیسی کے بزرگ تھے کہ ہندو اُن کو ہندہ کہتے ہیں۔اور مسلمان اپنا بزرگ تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ یہ تاریخی واقعہ ہے کہ گورو نانک صاحب کے انتقال پر ے فضل اور جنوری ۹۳ در صفحه ۲ کالم ! روز نامه الفضل ۱۴۳ جنوری ۱۹۳۷ و صفحه ۲ - الفضل ۳ در جنوری ۱۹۳۰ ه صفحه ۱- ۴