تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 554
۵۳۳ فصل هفتم ۱۹۳ء میں مندرجہ ذیل بزرگ داغ مفارقت دے گئے :- جلیل القدر صحابہ کا انتقال۔مصون محمد دوست صاحب مون مالیر کومله رجعت نو بر شده وفات ر فروری ۹۳ ۲ حضرت حاجی محمد خان صاحبت ساکن بستی و ریام ملان ربیعیت دسمبر ستشاهد وفات ۳۰ مارچ ۳ مرحوم فارسی کے عالم تھے اور اپنے علاقہ میں امانت و دیانت اور حق گوئی میں مشہور تھے۔آپ کانیک نمایند دیکھ کر آپ کی برادری کے اکثر لوگ داخیل احمدیت ہوئے اور جھنگ کے ضلع میں بستی دریام کیلانہ احمدیوں کی بستی سمجھی جانے لگی ہیے سموسے حضرت مولوی عبدالحمید صاحب امیر جماعت احمدی کندر آباد دکن رونان اپریل نام شیخ جان محمد صاحب زیر آبادی روفات ۲۰ را پریل اه اه - حضرت حسین بی بی مایه والده ما جاده چو ہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ربیعت سایر وفات ۱۲ مئی تاوان نہایت عایده - زاینده اور مہمند خاتون تھیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان کے مزار کی کتب اپنے قلم سے تحریر فرمایا جو یہ ہے :- ب الله الرحمن الرحيم شهر را انت على وصوله الكريم حسین بی بی بیت چوہدری الہی بخش صاحب مرحوم زوجه حاجی چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم سال پیداکنش شد سال بعیت ۱۹۰۴ تاریخ وفات ۱۶ رمئی ۱۹۳ سر بروز شنبه چوہدری نصراللہ خان صاحب مرحوم کی زوجہ - عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالٰی کی والدہ صاحبہ کشت و رویاء تھیں۔رویا ء کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت نصیب ہوئی اور اپنے مرحوم شوہر سے پہلے بیعت کی۔پھر رڈیار کے ذریعہ ہی سے خلافت ثانیہ کی شناخت کی اور مرحوم خاد نار سے پہلے بیعت خلافت کی۔دین کی غیرت بادرجہ کمال ١٩٣٨ الفضل در فروری دو صفحہ کالم 1۔یاد رہے کہ اس مضمون میں صوفی صاحب کی بیعت کا سن یہ لکھا ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ آپ نے لیکچر دھیانہ نومبر 19ء کے موقعہ پر بیعت کی تھی۔ہے وار سے افضل مو را پروین گفت کالم ۱-۲ الفضل ارابي الفضل مارس ۱۹ من -