تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 551
۵۳۰ حضور نے اس سلسلہ کے پہلے لیکچر کی ابتداء میں فرمایا۔نے دیکھا۔آج میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ میں نے وہاں کیا پایا اور وہ کیا تھا جسے میری اندرونی آنکھ یں یہ نہیں کہ سکتا کہ جو کچھ میں نے اس وقت وہاں دیکھا وہ وہی تھا جوئیں آج بیان کرونگا۔اس وقت میری آنکھوں کے سامنے سے جو نظار بے گذرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو راز مجھ پرکھول گیا گو و تفصیل کے لحاظ سے بہت بڑی چیز ہے اور کئی گھنٹوں میں بھی بیان نہیں ہو سکتی مگر چونکہ فیکر میں انسان جلدی سفر طے کر لیتا ہے، اس لئے اس وقت تو اس پر چند منٹ شاید دس یا پندرہ ہی خرچ ہوئے تھے۔پس جو انکشاف اس وقت ہوا وہ بطور بیج کے تھا اور جو کچھ میں بیان کروں گا وہ اپنے الفاظ میں اس کی ترجمانی ہوگی اور اس کی شاخیں اور اس کے پتے اور اس کے پھیل بھی اپنی اپنی جگہ پر پیش کئے جائیں گے۔اب میں قدم بقدم آپ کو بھی اپنے اس وقت کے خیالات کے ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا ہوں“ اے اس وضاحت کے بعد حضور نے بتایا کہ میں نے اس سفر میں سولہ چیزیں دیکھی ہیں (1) قلعے ، (۲) مقایر، (۳) مساجد، (۴) مینار ، (۵) نوبت خانے ، (۶) باخات ، (۷) دیوان عام ) (۸) دیوان خاص ، (۹) نہریں ، (10) لنگر خانے ، (11) دفاتر ، (۱۲) کتب خانے ، (۱۳) مینا بازار ، (۱۴) جنتر منتر (۱۵) سمندر ، (۱۷) محکمہ آثار قدیمیه حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ان مادی اشیاء میں سے ایک ایک چیز کو لیا اور پھر قرآن مجید کے عالم روحانی میں اس کے مشابہ اور متماثل امور کو نہایت و بعد آخرین طریق اور اثر انگیز پیرایہ سے بیان فرمایا اور ثابت کیا کہ حضور پر کھلنے والی نئی دنیا کے عظیم الشان آثار قدیمہ اس سفر میں دکھائی دینے والے آثار قدیمہ سے بہت زیادہ شاندار ہیں۔اُس روحانی دنیا کے جنتر منتر انسانی طاقت سے بالا ، اس کی روحانی نہریں عدیم المثال، اُس کے سمندر بے کنار ، اس کے محلات عالیشان ، اس کے لنگر خانے جاری ، اس کے دیوان عام، دیوان خلص بازار کتب خانے اور دفاتر عدیم النظیر، اس کے مینار بے انتہا بلند اور پر شکوہ ، اس کی مساجد غیر محدود اور وسیع و عریض ، اس کے مقبرے دلوں کو ہلا دینے والے اور اُس کے قرآنی نوبت خانے دنیوی نوبت خانوں سے زیادہ شاندار ہیں جن سے پانچوں وقت خدائے واحد کی بادشاہت کا پر مصیبت اور پر جلال اعلان کیا جاتا ہے۔به سیر روحانی" طبع اول صفحه ۱۲-۱۳ (طبع ثانی صفحه ۷) به