تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 550
۵۲۹ جیس طرح آج سے دو ہزار سال پہلے گیا کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے گوتم بدھ کی تھی۔جبکہ وہ خدا تعالے کا قرب اور اُس کا وصال حاصل کرنے کے لئے بیٹھا اور وہ بیٹھا رہا اور بیٹھا رہا۔یہانتک کہ بدھ مذہب کی روایات میں لکھا ہے کہ بانس کا درخت اُس کے نیچے سے نکلا اور ائس کے سر کے پار ہوگیا مگر محویت کی وجہ سے اُس کو اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں لوگوں نے بنالیا۔اصل بات یہ ہے کہ بڑھ ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور وہ دنیا کے راز کو سوچنے لگا۔یہانتک کہ خدا نے اُس پر یہ راز کھول دیا۔تب گوتم بدھ نے یک دم اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا ”میں نے پالیا۔میں نے پا لیا " میری کیفیت بھی اُس وقت یہی معنی جب میں اس مادی دنیا کی طرف واپس لوٹا تو بے اختیار میں نے کہا۔میں نے پا لیا۔میں نے پالیا" اُس وقت میرے پیچھے میری لڑکی امتہ القیوم بیگم چلی آرہی تھی۔اُس نے کہا۔ابا جان! آپ نے کیا پا لیا ؟ میں نے کہا میں نے بہت کچھ پالیا۔مگر میں اس وقت تم کو نہیں بتا سکتا۔میں اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جلسہ سالانہ پر بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا۔اسی وقت تم بھی سن لینا ہے فصل ششم حضور انور نے اپنے وعدہ کے مطابق اسی سال کسی رومانی سیر روحانی کے پر معارف کے عنوان سے سالانہ جل شانہ پر لی لیکچروں کے ایک اور علمی لیکچروں کا آغاز میرک سلسلہ کا آغاز فرما دیا جو ان میں پانی کمی کو پنچا مبارک دیا اور بعد ازاں کتابی صورت میں چھپ کر اپنوں اور بیگانوں میں بیحد مقبول ہوا یہ ه " سیر روحانی جلد اول طبع اوّل صفحہ ۸ تا ۱۲ (نیا اڈیشن صفحه ۲ تا ۶ تقریر طبه سالانه ۲۸ دسمبر له : کے حضور کے یہ یاد گار لیکچرتین جلدوں میں شائع ہوئے پہلی جلد میں ۱۹۳۸ء ، ۱۹۴۰ اور ۱۹۴۱ء کے لیکچر شامل تھے جن میں عالم روحانی کے آثار قدیمہ اجنتر منتر، سمندر، مساجد، قلعے ، مقبرے ، مینا بازار کا لطیف نقشہ کھینچا گیا تھا۔دوسری جلسہ ۱۹۴۸ء و ۱۹۵۰ داؤ ۱۹۵۱ء کی تقریروں پرمشتمل تھی اور اس میں دنیا ئے روحانیت کے مینار، دیوان عام اور دیوان خاص کی سیر کرائی گئی تھی۔تیسری جلد میں مندر جہ ذیل مضامین پر روشنی ڈالی گئی تھی۔عالم روحانی کا تو بت خانہ ( تقریر کار عالم روحانی کے وفاتہ (تقری شان، عالم روحانی کی نہریں تقریر شده قرآنی باغات ( تقریر الشام عالم روحانی کے لنگر خانے (تقریختہ، روحانی عالم کے کتب خانے (تقریری )