تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 542 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 542

۵۲۱ کی نمازیں پڑھائیں جس میں مقامی احباب بھی شامل ہوئے اور ایک یا دو احباب نے بعیتیں بھی کیں۔مجھے ارشاد فرمایا کہ پہلے بھاکر حضور اور حضور کے خاندان کے لئے سیکنڈ کلاس میں سیٹیں دہلی کے لئے ریزرو کوالوں۔اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر نے جو مسلمان تھا وعدہ کیا اور گاڑی آنے پر حضور کے حسب منشار انتظام کر دیا۔حضرت امیر المومنین آگرہ سے روانہ ہو کر ۲۵ اکتوبریار کو بوقت چار بجے شب دهلی وعلی میں آمد تشریف لائے جماعت احمدیہ و علی و شملہ نے نئی دہلی کے سٹیشن پر حضور پر نور کا استعمال کیا۔حضور نے گاڑی سے اتر کر تمام احباب کو جو ایک لمبی قطار میں کھڑے تھے ، شرف مصافحہ بخشا اور پھر ان بیل چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی معیت میں ڈاکٹر ہیں۔اسے لطیف صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے جہاں ڈاکٹر صاحب موصوف نے حضور پُر نور کی دعوت طعام کا انتظام کر رکھا تھا۔اس دعوت میں پچاس کے قریب غیر احمدی معززین شہر اور اتنی تعداد میں احمدی بھی مدعو تھے۔یہاں حضور نے نواح دھلی کے سرسپور گاؤں کے پچلیں آدمیوں کی دمعہ اہل وعیال بیعت کی۔حضور نے اس موقعہ پر بیعت کرنے والوں کو نماز سمجھ کہ ادا کرنے کی تاکید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تھوٹ کسی حالت میں بھی نہیں بولنا چاہیے۔یہ خطر ناک بیماری ہے۔بعد ازاں حضور اپنے قیام کے لئے آنریل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے ملے ۱۲ اکتوبر ۱۳ پر کو حضور نے نماز جمعہ پڑھائی۔اسی روز شام کو خواجہ حسن نظامی صاحب کے ہاں دعوت مکتوب محرره ۱۵ جولائی شد سے نذیر احمد صاحب ہو نیو گنگا پور چک ۵۲۷ اپنے مکتوب مورخہ ہر جنوری شاہ میں لکھتے ہیں : " خاک و وضع سر سمور صوبہ دہلی کا مہاجر ہے اور میں نے ۳۴ اور میں بیعت کی تھی۔اسی وقت سے مخالفت شروع ہو گئی اور میرے گھر والوں نے یر کسی یہ روبیہ دیئے گھر سے الگ کر دیا تھا۔خاکسار نے مزدوری یا پھیری وغیرہ کر کے اپنا گزارہ کیا اور گھر والوں کو تبلیغ کرتا رہا۔چار سال کی قربانی اور دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر والوں کے دلوں میں احمدیت کی سچائی ظاہر کر دی۔اور جس وقت حضور دہلی آئے۔۹۳۸ ه۔۔۔کے موقع پر میرے والد صاحب اور میرے بھائیوں نے اور بھائیوں کی بیویوں رشتہ داروں نے حضور کے ہاتھ پر دہلی پہنچ کر ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب کی کو بھی میں بیعت کرنے کی اللہ تعالیٰ سے توفیق پائی۔اس وقت حضور کھانا کھا چکے تھے۔مگر اس وقت تک کھانے کے برتن اٹھائے نہیں تھے۔دہلی کے بڑے بڑے امراء اور عہدیدار دعوت میں شامل تھے اور سب کی موجودگی میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بیعت لی تھی " گه " الفضل " ۳۰ اکتوبر ۹۳۸ به صفحه ا کالم :