تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 541 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 541

۵۲۰ کی ریزرویشن ہو چکی تھی اس لئے مرزا سلیم بیگ صاحب کی دعوت کے لئے کوئی وقت نہ تھا۔اس پر مرزا سلیم بیگ صاب نے حضور سے عرض کیا کہ بزرگوں سے سنا تھا کہ آپ ہمارے رشتہ دار ہیں۔اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر آپ کو اپنے ایک عزیز کی دعوت قبول کرنا ہو گی خواہ اس کے لئے ایک دن اور قیام کرنا پڑے۔اس پر حضور نے نہایت خوشی سے اپنے قیام کی مدت میں ایک دن کا اضافہ کر کے اور ریزرویشن منسوخ کرو کہ مرزا سلیم بیگ صاحب کی دعوت کو منظور فرمایا اس طرح منصور نے اپنے ننھیالی رشتہ داروں کے جذبات و احساسات کا خاص خیال رکھا اور دوسروں کے لئے نمونہ قائم فرمایا۔حضور نے حیدر آباد کے قیام کے دوران میں حیدر قباد کی تہذیب وتمدن ، وہاں کے لوگوں کے اخلاق ، شائستگی مہمان نوازی اور رواداری ، اُن کے لباس ، رہن سہن، نفاست و صفائی اور شہر حبید یہ آباد ی عمارتوں کی خوبصورتی کی جو اسلامی فو تغیر کا بہترین نمونہ ہے، بڑی تعریف فرمائی۔اس راکتو بر سر کو جمعہ کا دن تھا۔اس دن نماز جمعہ کے وقت حضور شہر کی مرکزی مسجد (مکہ مسجد ) کے آگے سے گزرے اور وہاں سینکڑوں موٹر کاروں کو کھڑے دیکھ کر اور بی علوم کو کے کہ میدان لوگوں کی کاریں ہیں جو نماز جمعہ ادا کرنے آئے ہیں بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ امراء اورصاحب حیثیت لوگوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا یہ شوق بہت قابل تعریف ہے۔حیدر آباد سے آگرہ تک حیدر آباد سے رخصت ہو کر حضرت امیرالمومنین آگرہ کی طرف روانہ ہوئے ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کا بیان ہے کہ آگرہ سے ایک دو شیشن قبل حضور نے فرمایا که چونکه تاج محل کو چاندنی میں دیکھنا ہی اس دیکھنا ہوتا ہے اس لئے بہت جلد سکیسی کا انتظام کرنا چاہیئے چنانچہ وہاں اتر تے ہیں خاکسار نے انتظام کر دیا۔حضور سح مخاندان تاریخ محمل کو تشریف لے گئے اور خاکسار ایک ہوٹل میں سامان لے گیا اور حضور کے ارشاد کے مطابق کھانے کا آرڈر دیا اور پھر تاج محل پہنچ گیا۔پھر وہاں سے حضور قلعہ دیکھنے تشریف لے گئے۔وہاں اتفاقاً بشیر احمد صاحب سکھر دی جو وہاں کاروبار کرتے تھے اور قادیا میں تعلیم پائی تھی) اور حضرت با بوراکبر علی صاحب انسپکٹر ورکس ( والد کرنل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب کو علم ہوگیا اور وہ اور مکرم سیٹھ اللہ جو یا صاحب آگرہ (جو آجکل ملتان میں کہا جر ہیں، قلعہ میں آگئے اور قلعہ کے دیکھنے تک ساتھ رہے۔پھر ہوٹل سے کھانا لیا اور حضور مع تمام قافلہ فتح پور سیکری ٹیکسیوں پر گئے۔اور ایک مسلمان بھی ساتھ لیا جو اس دوران میں ان لوگوں کے معمول کے مطابق ہر طرح کے قصے بیان کرتا رہا۔وہاں دیوان خاص وغیرہ کی عمارت کے اوپر ہی کھانا کھایا گیا حضور نے حضرت سلیم چشتی کے مزار پر دعا فرمائی اور مزارہ سے باہر نکل کر حضور کے فرمان پر ان مجاوروں کو چند روپے خاکسار نے دیئے۔وہاں سے فارغ ہو کر حضور ہوٹل میں تشریف لائے ظہر وعصر