تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 33
۲۹ گردی پر جا کر لیکن کسی پر شمولیت کے لئے زور نہ ڈالیں اور جو عقد کرے اسے مجبور نہ کریں" نیز فرمایا : تیسری بات یہ مد نظر رکھی جائے کہ ہندوستان کے احمدیوں کا چندہ پندرہ جنوری ۹۳۵ از تک وصول ہو جائے جو ۱۶ جنوری کو آئے یا جس کا ہار جنوری سے پہلے پہلے وعدہ نہ کیا جا چکا ہو اسے منظور نہ کریں۔پہلے میں نے ایک ماہ کی مدت مقرر کی تھی مگر اب چونکہ لوگ اس مہینہ کی تنخواہیں لے کر خرچ کو چکے ہیں۔اس لئے میں اس میعاد کو مار جنوری تک زیادہ کرتا ہوں۔جو رقم ۱۵ جنوری تک آجائے یا نہیں کا وعدہ اس تاریخ تک آجائے وہی لی جائے۔زمیندار دوست جو فصلوں پر چندہ دے سکتے ہیں یا ایسے دوست جو قسط وار روپیہ دینا چاہیں وہ ہار جنوری تک ادا کرنے سے مستثنی ہوں گے مگر وعدے اُن کی طرف سے بھی ۱۵ جنوری تک آجائے ضروری ہیں۔جو رقم یا وعدہ ۱۶ جنوری کو آئے اُسے واپس کر دیا جائے۔بہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے لئے میعاد یکم اپریل تک ہے جن کی رقم یا وعدہ اس تاریخ تک آئے وہ لیا جائے۔اس کے بعد آنے والا نہیں۔اس صورت میں جو لوگ اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے وعدے اس تاریخ کے اندر اندر بھیج دیں۔رقم فروری مارچ اپریل میں آسکتی ہے یا جو دوست بڑی رقوم دس ہیں تمہیں چالیس کی ماہوار قسطوں میں ادا کرنا چاہیں یا اس سے زیادہ دینا چاہتے ہوں انہیں سال کی بھی مدت دی جاسکتی ہے۔مگر ایسے لوگوں کے بھی وعدے عرصہ مقرہ کے اندر اندر آنے چاہئیں۔اس میعاد کے بعد صرف انہی لوگوں کی رقم یا وعدہ لیا جائے گا جو حلفیہ بیان دین کہ انہیں وقت پر اطلاع نہیں مل سکی مثلاً جو ایسے نازک بیمار ہوں کہ جنہیں اطلاع نہ ہو سکے یا دور درا ملکوں میں ہوں۔پس کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ اللہ تعالے کی طرف سے جماعتوں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ وہ امتیاز کرنا چاہتا ہے۔اس کا منشار ہی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو ثواب سے محروم رکھا جائے۔میں جن کو ندا اچھے رکھنا چاہتا ہے انہیں آگے کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔اور ہم کون ہیں جو اس کی راہ میں کھڑے ہوں۔بہارے مد نظر روپیہ نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیئے کہ خدا کے دین کی شان کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالے غیرت والا ہے وہ کسی کے مال کا محتاج نہیں۔یہ مت خیال کرو کہ دین کی فتح اس پا ۲۷ ہزار روپیہ پر ہے اور کہ بعض لوگ اگر اس میں حصہ نہ لیں گے تو یہ رقم پوری کیسے ہوگی۔جب اللہ تعالیٰ