تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 534 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 534

۵۱۳ جہاں ایک ہزار مردوں اور عورتوں کا مجمع تھا۔احباب جماعت کے علاوہ شہر کے رؤساء ، نواب ، جاگیر دار و دیگر معززین بصد شوق و اخلاص تشریف لائے حضور نے ایک دل ہلا دینے والا حقائق و معارف سے لبریز خطبہ مجمہ ارشاد فرمایا جس میں صحابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان نثاریوں، قربانیوں کا نقشہ نہایت دلکش در انگیز پیرایہ میں کھینچا اور اس جذبہ کو کامیابی وکامران کی گنجی قرار دیا۔اس کے بعد اپیل کی کہ اب بھی محب رسول کے جذبہ کی ضرورت ہے۔اپنے اعمال کو ہمیشہ دیکھ لیا کرو کہ آیا وہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہیں یا نہیں۔کچھ اس انداز میں یہ خطبہ ارشاد ہوا کہ سامعین بے تاب ہو گئے اور بعض کی چیخین نکل گئیں۔اور وہ زار و قطار رونے لگے۔نماز جمعہ و عصر جمع کرائی گئیں۔اس کے بعد حضور نے تین اصحاب کے نکاحوں کا ایک مشترکہ خطبہ پڑھا جس میں پھر خطبہ جمعہ کے خیالات کا عکس جلوہ گر ہوا۔آپ نے تبلیغ کے متعلق اس قدر پراثر پیرایہ میں سامعین کو مخاطب فرمایا کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں ہو سکتا۔آپ نے گمراہ مخلوق کو خدا تعالیٰ کے گمشدہ بچے قرار دیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مجھے سب سے بڑھ کر متاثر کرتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ کسی کا بچہ گم ہو گیا۔اگر کسی کا بچہ فوت ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ اُسے چند دن کے بعد صبر آ جائے۔لیکن بچہ گم ہو جانے کا واقعہ اس قدر درد ناک ہوتا ہے کہ ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔یہ خیالات سامنے ہوتے ہیں کہ نہ معلوم وہ کس بیدرد کے ہاتھ لگ گیا۔معلوم نہیں وہ کس درجہ مصیبت و آفت میں مبتلا ہو گا۔شاید وہ مارکھا رہا ہو یا بیمار ہو۔اس کی سیکیسی پر کسی دم نہ ماں کو نہیں آتا ہے نہ باپ کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے بڑھ کر فلق خدا لانے کو اپنے بچھڑے ہوئے بندوں کے متعلق ہوتا ہے جب گمشدہ بچہ ماں باپ کو مل جاتا ہے تو اُن کی خوشی کا کیا کہنا۔اس سے بہت بڑھ کر خوشی خدا تعالے کو ہوتی ہے جب اُس کا ایک بندہ اُس سے آکر ملتا ہے۔محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیم خدا سے ملنے کا ذریعہ ہے جو اس تعلیم سے آلگا وہ خدا سے ملا۔نیں تم اکٹھی ، بیدار ہو ، کوشش کرو کہ خدا کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو اس کے آستانہ پر لاڈالو اور خداوند تعالے کی خوشنودی کے دارث نور اس خطبہ کے آخر میں حضور نے تحریک فرمائی کہ احباب جماعت ایک ایک ماہ کے لئے اپنے اوقات وقف کریں اور یہ واقفین ریاست کے مختلف اضلاع میں پہنچیں اور حضور کے خطبہ کی روشنی میں تبلیغ کریں اور سب سے زیادہ زورہ اتحاد بین المسلمین پر دیں۔اس اثر انگیز تنطلبہ کے دوران ہر شخص نے جان لیا کہ یہی نصب العین اس کے لمحات زندگی کا بہترین سرمایہ ہے۔جن غیر احمدی کا ہیر نے ان خطبات کو شنای بیساختہ کہہ اُٹھے کہ ہمیں بڑا مغالطہ تھا۔احمدیوں کی زبان سوائے آنحضر