تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 524 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 524

۵۰۷ میرے درس میں شامل تھے وہ گواہی دے سکتے ہیں۔اور اگر ان کے پاس اس وقت کی کا پہیاں موجود ہوں تو وہ دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے عرش کے متعلق نوٹ لکھوا کر بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ حضر مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ اس کے خلاف ہے۔اسے کاپیوں سے کٹوا دیا اور کہا کہ ان اوراق کو پھاڑ ڈا لو کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے خلاف لکھا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مقابلہ میں بھی ہم اپنی رائے پر اڑے رہیں اور کہیں کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہی صحیح ہے اور اپنے نفس کی عزت کا خیال رکھیں تو اس طرح تو دین اور ایمان کا کچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔پس یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکم ، عدل ہیں۔اور آپ کے فیصلوں کے خلاف ایک لفظ کہنا بھی کسی صورت میں جائز نہیں۔ہم آپ کے بتائے ہوئے معارف کو قائم رکھتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کے دوسرے معانی کر سکتے ہیں۔مگر اسی صورت میں کہ ان میں اور ہمارے معانی میں تناقض نہ ہو “ لے فصل پنجم ۱۹۳ کا ایک نہایت اہم اور ناقابل فراموش واقعہ سید نا حضرت امیرالمونین با خرید آباد کن خلیفہ اسیح الثانی کا سفر حیدر آباد ہے۔حضور کا یہ مبارک سفر ایک رؤیا کی بناء پر تھا۔اور اس کی غرض و غایت یہ تھی کہ ریاست حیدر آباد جو مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے بعد مسلمانان ہند کی تہذیب و تمدن اور علم وفن کا سب سے بڑا مرکز تھی۔وہاں کے حالات کاجائزہ لیا جائےاور عام مسلمانوں کی بہبود اورجات احمدی کی تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کی عملی تاپ سوچی ہیں حرم امیر المومنین کا مکتوب حضرت میرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی قادیان سے یکم اکتوبر کو روانہ ہوے اور روانگی سے قبل ، ۲ ستمبر ۹۲ مہ کو سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب امیر جماعت سك ** الافضل " مستمر ۱۹۳۸ در صفحه ۱۷ - ۱۷: سے اس سفر من حضر یا خوب میاد که یک مصاحبه حضرت سیده در متین حمام صاحبزادی بہتہ القیوم صاحہ نور کے ہم انھیں ملک صلاح الدین کا ایم اے (موقف اصحاب احکام پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے شامل سفر تھے اور خان بریا صاحب میاں عطا محد ما انگلی پر دار کے طور پر پیٹی سے حیدر آباد تک کے سفر اور وہاں کے قیام میں موانا ابو العطاء صاحب مبلغ بیٹی بھی تصور ساتھ ہے۔