تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 521
۵۰۴ بہادر، چودھری فقیر محمد صاحب ، ڈاکٹر میجر غلام احمد صاحب ، مرزا منصور احمد صاحب ، خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب ، نما نصاحب غشی برکت علی صاحب ، چودھری نعمت اللہ خان صاحب بیگم پور، اخوند محمد اکبر صاحب اور دوسرے مخلصین باقاعدگی سے مالی امداد فرماتے رہے۔ان سب مخلصانہ کوششوں کے بہت شاندار نتائج برآمد ہوئے۔کئی مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوگئیں۔اور جہاں احمدیوں کی تعداد کم تھی وہاں بکثرت احمدی ہونے لگے۔اور يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللَّهِ أَزْوَاجًا کی ایک ابتدائی جھلک نظر آنے لگی جیسا کہ پانچ برسوں کی درج ذیل مختصر کارگذاری سے عیاں ہو سکتا ہے۔سال مئی ۱۹۳۸ じ خلاصه مساعی ۲۱) دیہات میں دورہ کیا گیا۔چار اشتہارات اور پانچ ٹیکٹوں کی اشاعت ۳۰ اپریل شانہ کی گئی۔20 جلسے منعقد کئے گئے۔۵۰۰ کے قریب احباب نے قبول یکم مئی ۱۹۳۹ تا ۳۰ اپریل ۱۹۴۰ یکم مئی ۹ اید تا ۳۰ اپریل ۹۴ 1 یکم مئی به تا ۳۰ اپریل ۱۹۴۷ یکم مئی سه تا احمدیت کی اور ۲۵ نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔قادیان کے ۱۰۸ احباب نے تبلیغ کے لئے پندرہ پندرہ روز وقف کئے۔چار ابتدائی مدارس جاری کئے گئے۔چارہ ٹریکٹ بارہ ہزار کی تعداد میں شائع کئے گئے۔چالیس نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور ساڑھے پانچ سو افراد نے بیعت کی۔اس سال ایک ہزار پانچ سو پچاس افراد احمدیت میں شامل ہوئے پچھیں نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔اور تو جماعتوں کی تعداد پہلے سے دو چند ہو گئی۔IA اس سال پندرہ سو چوالیس دوست حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔اس سال کے نو مبائعین کی تعداد بہ مہ تھی۔صیغہ مقامی تبلیغ نے اب اپنی ۳۰ اپریل ۱۹۴۳ء سرگرمیاں قریبی اضلاع مثلاً امرتسر سیالکوٹ ، جالندھر، ہوشیار پور اور اور کپورتھلہ میں بھی شروع کر دیں ۱۹۲۶ء کے قریب مقامی تبلیغ کے انچارج مولانا احمد خاں صاحب نستیم بنائے گئے مگر آپ کو اپنے فرائض کی بجا آوری میں تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ پورا مشرقی پنجاب فسادات کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا اور آپ