تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 512
۴۹۵ سیدی حضرت صاحبزادہ صاحب نے جواباً فرمایا اسلام کا مقصد صرف یہ عارضی ترقی نہیں بلکہ اسلام تو ابدی زندگی پیش کرتا ہے۔جو دنیا میں بھی ابدی ہے اور عالم ثانی میں بھی ابدی جن ترقیات روحانی کو اسلام پیش کرتا ہے۔یہ دنیاوی معمولی ترقیات اُن کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔پھر نہایت واضح صورت میں اسلامی انعامات بیان کرنے کے بعد فرمایا۔اگر آپ کا یہ نظری تسلیم بھی کرلیا جائے تو اسلامی تاریخ اس سے موافقت نہیں کرتی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعت کے زمانے میں بھی مثلا روم اور عجم کی قومیں بہت ترقی یافتہ اور تقل آزاد حکومتیں تھیں پھراُن کو کیوں صحابہ کرام نے اسلام کا پیغام پہنچایا ؟ ے اس ملاقات کا ذکر مصر کے تقریباً تمام بڑے بڑے روزناموں نے کیا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی آمد اور قاہرہ میں اقامت کے دوران مصری احمدیوں نے انتہائی اخلاص، محبت اور خوشی کا ایمان افروز مظاہرہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ المتطورة والسلام کے پوتوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہر مسکن جد و جہد کی۔صاحبزادگان قریباً تین ماہ تک مصر میں قیام فرما رہے اور جماعت قاہرہ کو سیدنا حضرت مسیح موعود کی ذریت مقدسہ اور سید ناخلیفتہ اسیح الثانی کے جلیل القدر فرزند یکی باور است قری سے دیکھنے کی سعادت میسر آئی جس سے اُن کے اندر نہایت اعلیٰ تبدیلی پیدا ہوئی اور سلسلہ سے اخلاص و محبت میں اور بھی ترقی کر گئے۔اگر چہ اہل فلسطین کی بھی دلی خواہش تھی کہ وہ ان بزرگ وجودوں کی زیارت کر سکیں مگر نا مساعد حالات کے باعث وہ محروم رہے بے ہندوستان کو روانگی کوردانگی مصر میں تین ماہ تک مقیم رہنے اور بلاد اسلامیہ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب اور مرزا مبارک احمد صاحب پورٹ سعید سے بذریعہ بحری جہاز عازم بمبیٹی ہوئے۔اسی جہاز میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ، مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور صاحبزادہ میرزا ه مظفر احمد صاحب بھی انگلستان سے واپس تشریف لا رہے تھے۔پانچ بزرگوں پر مشتمل یہ مقدس قافلہ کے نومبر شد کو ساحل بیٹی پر وارد ہوا۔اور بیٹی سے بذریعہ ریل و نومبر کو بٹالہ سٹیشن پر پہنچا جہاں اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نفس نفیس بذریعہ کار ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ریلوے اسٹیشن بٹالہ پر ه الفضل" ، اکتوبر ۹۳۵ امیر صفحه ۵-۶ ۱۳۰ اپریل ۱۹۳۹ در صفحه ۷۶ : ٹو رپورٹ سالانہ مخرجات صدا امین احمدیہ یکم مئی را از نایت الفضل دور تولیت ۱۹۳۷ و صفحه ۲ ١٩٣١