تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 498 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 498

فصل دوم قادیان سے ہوتے کی نسبت اور اپریل ان کا واقعہ ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحبت ۹ہ ر تذکرہ " کا مطالعہ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ جماعت احمدیہ کو ایک اہم خوا د کتابت کسمیات میانی چھوڑنا پڑے گا۔اس انکشاف پر آپ نے سید اعتر قادیان خلیفہ اسیح الثانی نے کی خدمت میں مندرجہ ذیل خط لکھا :- سيدنا بسم الله الرحمن الرحیم السلام عليكم ورحمته الله وبركاته آج کل میں تذکرہ کا کسی قدر بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔مجھے بعض الہامات وغیرہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید جماعت احمدیہ پر یہ وقت آنے والا ہے کہ اُسے عارضی طور پر مرکز سلسلہ سے نکلنا پڑے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت حال غالباً گورنمنٹ کی طرف سے پیدا کی جائے گی۔اگر میرا یہ خیال درست ہو تو اس وقت کے پیش نظر ہمیں کچھ تیاری کرنی چاہیے مثلاً مذہبی اور قومی یادگاروں اور شعائر اللہ کی حفاظت کا انتظام وغیرہ تاکہ اگر ایسا وقت مقدر ہے تو جماعت کے پیچھے ان کی حفاظت رہے۔نشانات محفوظ رہیں۔اسی طرح دوسری باتیں سوچ رکھنی چاہئیں۔فقط والسلام (دستخط) خاکساز مرزا بشیر احمد ۲۶ اور ا خوا پر حضرت امیرالمومنین خلیفه ای الثانی نے اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل نوٹ تحریر فرمایا۔عزیزم مکرم السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ میں تو میں سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔حق یہ ہے کہ جماعت اب تک اپنی پوزیشن کو نہیں سمجھی۔ابھی ایک ماہ ہوا میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ مسجد اقصی وغیرہ کے لئے گہرے زمین دوز نشان لگائے جائیں جن سے دوبارہ مسجد تعمیر ہو سکے۔اسی طرح چاروں کونوں پر دور دور مقامات پر ه بحواله الفضل" ۲۵ مئی ۱۹۴۷ و صفحه ۳ به