تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 477 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 477

آج دہلی کی قادیانی جماعت کے چائینش افراد خدمت خلق کے لئے آئے تھے مجھ سے پوچھا۔کہیں کا راستہ صاف کرنا ہو تو بتا دیجیے۔لیکن نے اپنے مسافر خانہ کا راستہ خود جا کر بتایا۔اور این لوگوں نے مزدوروں کی طرح پھاوڑے لے کر راستہ صاف کیا۔ان میں وکیل بھی تھے اور بڑے بڑے عہدوں کے سرکاری نوکر بھی تھے۔اور مرزا صاحب کے قرابت دار بھی تھے۔ان کے اس مظاہرے کا درگاہ کے زائرین اور حاضرین پر بہت اثر ہوا۔ایک صاحب نے کہا کہ پراپیگنڈا کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔میں نے کہا حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا ہے۔جو شخص ظاہر داری کے لئے خدمت کرتا ہے اس کو ایک اجر ملتا ہے اور جو محض خدا کی رضاء کے لئے خدمت خلق کرتا ہے اس کو دو اجر عتے ہیں۔یہ گاہوں سے اعتقاد رکھنے والے اپنی ذات کے لئے مجاہدے کرتے ہیں۔اس قسم کے مجاہدے جن کا تعلق عوام کی آسائش سے ہو بہت کم دیکھے جاتے ہیں۔" (منادی 4 ستمبر (۱۹۳) ١٩٣ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 19 ء کے شروع میں ملبس خدام الاحمدیہ تعلیم نا خواندگان کا انتظا کا خاندان کا شکر کے ایران کی ایک کا انتظام کرنے کا حکم :- دیا۔چنانچہ مجلس نے دو دو تین تین افراد کی جماعتیں بنا کر حسب لیاقت مختلف اوقات میں کلا سر ترتیب دیں۔مجلس کو شروع شروع میں معلمین کے حصول میں بہت دقتیں پیش آئیں۔اور جب معلمین مل جاتے تو اکثر متعلمین عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے سے احتراز کرتے اور پڑھانے والوں کو سنین کے کھیتوں اور ان کے کام کی جگہوں میں پہنچکر پڑھانا ہوتا۔ناداروں کے لئے قاعدے تختیاں تلمیں اور دوائیں تک مہیا کی گئیں۔محلہ دارا نصحت قادیان کے ان پڑھوں کے لئے اعزاز می اور رضا کار استادوں کے علاوہ با تنخواہ معلم کا تقر بھی کیا گیا۔بعض ایسے متعلمین بھی تھے جو نہایت ذوق و شوق اور محنت کے ساتھ خود اساتذ کے پاس پہنچکر اسباق لیتے مگر پیرانہ سالی کے باعث وہ جلدی بھول جاتے اور دوسرے دن پھر وہی سبق پڑھانا پڑتا۔قادیان کی مقامی مجالس کے علاوہ انبالہ کیرنگ - برہمن برید - نواب شاہ سندھ۔دہلی۔لودھراں ام مواد رپورٹ خدام الاحمدیه سال چهار هر صفحه ۱۲ تا ۱۳ الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۳۹ رد صفحه 1 قادیان کے نو مسلم خاکروبوں کے محلہ کا نام۔-