تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 476 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 476

۴۵۹ پر غریب و امیر افسر و ما تحت اور ذکر آتا اور خورد گلاں اپنے سارے امتیازات کو ایک نظر رکھ کر مزدور کے لباس میں حاضر ہو جایا کرے۔چنانچہ یہ دن باقاعدہ بنایا جاتا ہے اور اس دن کا نظارہ بہت ہی روح پرور ہوتا ہے۔کیونکہ اس دن صوب لوگ بلا امتیازہ اور بلا تفریق ایک ہی کام میں ہاتھ ڈال کر اسلامی مساوات کی روح کو زندہ کرتے ہیں۔اگر آقا کے ہاتھ میں ٹوکری ہوتی ہے تو نوکر کسی سے مٹی کھودتا ہے۔اور اگر آقائی کھودتا ہے تو نوکر ٹوکری اٹھائے پھرتا ہے اور غریب اور امیر اور افسر و ما تحت سب مٹی کے اندر کت پست نظر آتے ہیں۔یہ سلسلہ کئی گھنٹہ تک جاری رہتا ہے اور پھر اس عمل محبت کو روحانیت کا خمیر دینے کے لئے ایک گھنٹی بجتی ہے اور سب لوگ کام سے ہاتھ کھینچ کر خدا کے دربار میں دُعا کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اور یہاں پھر ہی محتاج وغنی کی مساوات اپنا رنگ دکھاتی ہے۔یہ سلسلہ کئی لحاظ سے بہت مفید ثابت ہو رہا ہے۔تول۔اس طرح ہر شخص کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔اور مغرور انسان اس مکروہ جذبہ سے رہائی پاتا ہے کہ بعض کام میری شان سے نیچے ہیں۔دوم۔آپس میں اخوت و مساوات اور اختلاط کی روح ترقی کرتی ہے اور سوسائٹی کے مختلف طبقات میں کسی قسم کی ناگوار خلیج حائل ہونے نہیں پاتی۔سوم بعض مفید قومی یا شہری کام آنریزی طریق پر بغیر کسی خرج کے سرانجام پا جاتے ہیں اور پھر جب کبھی خود حضرت خلیفہ مسیح اس مبارک تقریب میں شریک ہو جاتے ہیں اور گرد و غبار سے ڈھکے ہوئے ادھر اُدھر ٹوکری اُٹھائے پھرتے نظر آتے ہیں تو پھر تو یہ وقار عمل کا سبق دنیا کے سارے سیلقوں میں سے زیادہ گہرا اور زیادہ دیر پا نقش پیدا کر دیتا ہے ہے ، ابتدا میں و تا عمل کا طریق اگرچہ قادیان میں جاری ہوا گھر جلد ہی ملک کی دوسری مجانس نے بھی اس کی طرحت جوش و خروش سے توجہ دینا شروع کر دی۔خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے مجلس خدام الاحمدیہ دہلی کے و قاد عمل اور خواجہ حسن نظامی دہلوی ایک اجتماعی ، ناریل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔دخار سلسلہ احمدیہ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صا وت اے ایم۔اے معمر ۴۲۵ - ۴۲۶