تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 475
۴۵۸ مجلس خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ وہ مہینہ دو مہینہ میں ایک دن ایسا مقرر کر دیں جس میں ساری جماعت مل کر اپنے ہاتھ سے اجتماعی کام کرنے کے خدام الاحمدیہ نے اس اجتماعی کام کی شکل کو وقار عمل کے نام سے موسوم کیا۔اگر جیہ و تار عمل کا مبارک سلسلہ جس میں حضور انور بھی یہ نفس نفیس شمولیت فرماتے تھے پہلے سے جاری تھا مگر حضور کے ارشاد کی تعمیل میں وقار عمل کو عروج تک پہنچانے کا سہرا خدام الاحمدیہ کے سر ہے۔اس س ماہ میں مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت ۳۰ مارچ شام کو قادیان میں پہلا اجتماعی وقار عمل ہوا جو دارالرحمت اور دار العلوم کی سڑک کے درمیان منایا گیا جس کے بعد ہر دو ماہ کے بعد اس کا با قاعدہ انتظام جاری کر دیا گیا۔ہے شروع شروع میں مجلس کو کام کرانے کے لئے مختلف محلوں سے گائیں اور ٹوکریاں جمع کرنی پڑیں جیسا کہ مجلس کے دوسرے صدر حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابتداء میں خدام الاحمدیہ کے پاس سامان نہیں ہوتا تھا ہم محلے میں مختلف دوستوں سے کرائیں جو گریان وغیرہ جمع کرتے اور ان پر نشانی لگا لیتے اور وتار عمل کے بعد پھر انہیں واپس پہنچا دیتے تھے اس لئے وقار عمل کے بعد کئی گھنٹے تک مجھے وہاں ٹھہرنا پڑتا تھا تاکہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔اس سے عزت اور اعتماد قائم رہتا ہے اگر کوئی چیز ضائع ہو جاتی یا ٹوٹ جاتی تو ہم اُس کی قیمت ادا کر دیتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ کئی سو گرائیں اور کئی سوٹوکریاں جو وقار عمل کے لئے ضروری تھیں خدام الاحمدیہ نے خود خرما ہیں کیے ، ان دونوں مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان میں وقار عملی منانے کا جو بے پناہ جذبہ موجزن تھا وہ اپنی شامل آپ تھا جس کا نقش تمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی مشہور تائیف سلسلہ احمدیہ میں بایں الفاظ کھینچا :- حضرت خلیفہ المسیح کی ہدایت یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ ہر دوسرے مہینہ ایک دن ایسا منا یا کرے جس میں قادیان کے سارے احمدی مردہ (یعنی بچے۔جوان اور بوڑھے) بلا امتیاز حیثیت اکٹھے ہو کمر کسی قسم کے رفاہ عام کے کام میں اپنے ہاتھ سے مزدوروں کی طرح کام کیا کریں۔اور اس وقت ان الفضل ، امر فروری ۱۹۳۹ در صفحه ۸ کالم ۳ الفضل دار باد رچ ۱۹۶۶ در صفحه به کانما مطبو عو ر پورٹ خدام الاحمدیه سال اول و دوم منتحر ے