تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 474 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 474

۴۵۷ ۱۹۳۹ء کے نصف اول میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی گنے خدام الاحمدیہ سے متعلق حضرت خدام الاحمدیہ کی اہمیت و ضرورت اور خدام کے فرائض کے امیرالمومنین کا اہم سلسلہ خطبات متعلق خطبات جمعہ کا ایک نہایت اہم اورخصوصی سلسلہ جاری فرمایا اور مندرجہ ذیل تاریخوں کو خطبات جمعہ ارشاد فرمائے :- ۱۳ فروری ۱۹۳۵ ۰ ۱۰ر فروری ۱۹۳۵ - دار فروری ۱۹۳۵ روی ۲۲۰ فروری ۱۳۹۵ رای ار - / شد ۱۹۳۹ مرد ۳ مارچ ۹۳ و ار ار چ ۱۹۳۹ ۱۷ مارچ ۱۹۳۵ روسیه - یہ سب خطبات مجلس خدام الاحمدیہ کی اہمیت و ضرورت کو واضح کرتے ہیں اور جماعت کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ذیل میں بطور نمونہ ۱۳ فروری ۱۹۳ ء کے خطبہ جمعہ کا صرف ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے :- قوموں کی کامیابی کے لئے کسی ایک نسل کی درستی کافی نہیں ہوتی جو پروگرام بہت ہے ہوتے ہیں وہ اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جبکہ متواتر کئی نسلیں ان کو پورا کرنے میں لگی رہیں۔جتنا وقت اُن کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہو اگر اتنا وقت اُن کو پورا کرنے کیلئے نہ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی صورت میں مکمل نہیں ہو سکتے اور اگر وہ مکمل نہ ہوں تو اس کے معنے یہ ہونگے کو پہلوں نے اس پروگرام کی تکمیل کے لئے جو نخستین کوششیں اور قربانیاں کی ہیں ، بھی سب رائگاں گئیں۔۔اس نئے میں نے جماعت میں مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی ہے۔“ شہ وقار عمل فرمایا اس میں : وہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپریل ۱۹۳۸ء میں مجلس کیلئے جو پروگرام تجویز ایک اہم امر یہ تھا کہ ہر احمدی اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈائے اور کسی کام کو حقیر نہ سمجھے۔اس بات کے پیش نظر حضور نے سر فروری ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ ه مشبوعه الفضل ، ار فروری ۹۳ مطبوعه الفضل ۱۵ و مادرج۔نفضل الر مارچ الفضل اپریل 1979 مطبوعه الفضل ار مارچ ١٩٣٩ء من ه مطبوعه الفضل ، ار مارچ ۱۹ ۳۵ ت مطبوعہ الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۳۹ء صا ته الفضل کار فروری ۱۹۳۵ عمو او ۳