تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 470
سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے ارشادات کے ماتحت شعبہ خدمت خلق کو شروع ہی سے خدمت خلق مجلس خدام الاحمدیہ کے لائحہ عمل میں کلیاری اور بنیادی حیثیت دی جاتی تھی۔کیونکہ جماعت احمد کے قیام کی ایک اہم عرض بنی نوع انسان کی خدمت تھی۔قادیان اور بیرون قادیان کے خدام کی افرادی اور اجتماعی مساعی مختلف الاقسام تھیں جن کی تفصیل بہت زیادہ طویل ہو جائیگی مختصر یہ کہ مقامی اور بیرونی مجالس اس زمانہ میں جو کام کرتی تھیں ان کو حسب ذیل ہوئی موٹی شقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :- A - بلا تفریق غصب دمت ناداروں معذوروں۔بیواؤں اور غربار کی نقدی - سامان خور و نوش اور عبورتا وغیرہ سے امداد -۔بیواؤں بیماروں اور ان احباب کی جو چلنے پھرنے سے عاری ہوں خبر گیری۔اُن کو سودا سلف لاکر دنیا اور حتی المقدر در خدمت کرنا۔۳۔مسافروں کی راہنمائی۔انکے لئے ریزگاری مہیا کرتا۔ان کا سامان اٹھا کہ منزل مقصود تک لے جانا۔۴- انسداد امراض کے لئے تدابیر کرتا۔مثلاً عام گذرگاہوں اور نالیوں کی صفائی۔مکھی بجھتر تلف کرنے کی کوشش۔- غربار کے لئے محفوں سے آٹا اکٹھا کرکے اُن کی امداد کرنا۔4 - جلسہ سالا ند اور مجلس مشاورت پر مہمانوں کی خدمت کھانا کھلانا اور حتی المقدور دوسری ضروریات پہنچانا۔۔شادی بیاہ کی تقاریب کے انتظامات۔آتش زدگیوں کے مواقع پر اپنی خدمات پیش کرنا۔۔بچوں کی گمشدگی پر ان کی مکن ذرائع سے تلاش۔۱۰ تجہیز و تکفین کے انتظامات میں امداد ناداروں کیلئے گئی وغیرہ مہیا کرنا او پس ماندگان کی اداد غیر مذاہب کی سوسائٹیوں اور جلسوں میں رضا کارانہ اپنی خدمات پیش کرنا۔۱۲ اپنی جماعت کے جلسوں وغیرہ میں انتظامات کرنا اور دوسرے کاموں میں امداد دینا۔مجلس کا بیچ آغاز کار ہی میں اراکین مجلس خدام الاحمدیہ کے لئے ایک امتیاز می پیج بنوایا گیا جسکی |