تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 465
۴۵۰ قائم کیا گیا۔اس کے بعد کچھ عرصہ کے لئے بڑے بازار میں سید محمد اسماعیل صاحو ہے ( برادر حضرت ڈاکٹر ستید غلام غوث صاحب) کی کانوں کے جو بارہ میں اور پھر قصر خلافت کی طرف جانے والی گلی کے کونہ میں واقع منور بلڈنگ کے جو بارہ میں بھی رہا۔اور ازاں بعد اسے گیسٹ ہاؤس (دارالانوار) میں منتقل کر دیا گیا۔سید مختار احمد صاحب ہاشمی کا بیان ہے کہ خدام الاحمدیہ کے ابتدائی ایام میں حضور نے ہدایت دے رکھی تھی کہ جب بھی ہمیں کسی معامہ میں کوئی وقت پیش آئے تو ہم حضور سے مل سکتے ہیں اور راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔چنا نچہ حضور کی اس اجازت سے کئی مرتبہ استفادہ کر کے ہدایات حاصل کی جاتی رہیں۔ایک مرتبہ حضور نے نصیحت فرمائی کہ نوجوانوں کو غلط قیاس آرائی سے بچایا جائے۔مثلاً اگر حکم دیا جائے کہ خدام فلاں جگہ جمع ہو جائیں مگر وقت مقررہ پر آندھی آجائے یا بارش ہونے لگے تو کوئی خادم یہ قیاس نہ کرے کہ اس آندھی یا بارش میں کون آئیگا ؟ بہر حال خواہ کچھ موخادم کو وقت مقرہ پر ضرور پہنچ جانا چاہیئے اور اگر وہاں اس کے سوا کوئی نہیں آئے تب بھی خادم مقررہ وقت تک وہاں ٹھہرا رہے اس طرح نوجوان غلط اجتہاد سے بچ جائیں گے۔شروع شروع میں دفتری ذمہ داریاں اکثر و بیشتر سید مختار احمد صاحب ہاشمی کے سپرد تھیں اور آپ انہیں نہایت محنت و عرق ریزی سے نبھاتے آرہے تھے مگر ایک سال کے بعد کام استصدر وسیع ہو گیا کہ مرکزی دفتر کے لئے ار مارچ او کو ایک باتنخواہ مصر کی اسامی کےلئے قرار داد پاس کی گئی۔جس پر سید عبدا بانشاط صاحب ار ارچ ۱۹۳۵ء کو دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے وابستہ ہوئے جو اپنی منت خلوش استقلال کی بد دلت یکم فریدری شہ کو معتمد تجویز ہوئے اور ہار دسمبر کو نائب معمار مقرر کئے گئے اور اٹھائیں برس تک مجلس کی اہم خدمات بجالاتے رہے۔آپ کے علاوہ اس جولائی ۱۹۳۳ء کو ایک نئے کارکن ملک فضل دین صاحب کا اضافہ ہوا جو آج تک دفتری کام کر رہے ہیں۔شمال نج کے کنٹریٹ ہی کم ضور ایران را ستند بطرت احمد یہ چوک جنوب ے آپ کی ولادت حضرت خلیفہ اسی اول کے عہد خلافت میں ۲۰ جوانی سب کو چوٹی دید ما را استارت اور لمبا مرسد سیایسانہ کی خدمت کرنے کے بعد ۲۳ را پریل در گرو فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپرد خاک کئے گئے