تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 466
۴۵۱ راس دوران میں ملس عاملہ مزید نے دو ملین کی محنت سے اپنا دستور اساسی و قواعد و ضوابط دستور اساسی تیار کی جسے سید ناحضرت خلیفہ بیع الثانی نے ہے اسیح شرف منظوری عطا فرمایا اور مجلس کا نظم و ضبط انہیں قواعد و ضوابط کی بنیادوں پر استوار کیا گیا۔ان قواعد کے لحاظ سے ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتہ میں مجالس عاملہ حلقہ ہائے قادیان اور مجلس عاملہ مرکزیہ کے اراکین صدر و جنرل سیکرٹری کے لئے دو دو ناموں کی تعیین کی جانے لگی۔اور ان اسماء کو مجلس کے سالانہ اجتماع میں تمام اراکین کے سامنے پیش کیا جاتا جو کثرت رائے سے صدر و جنرل سیکرٹری کا انتخاب کرنے مجلس کا انتخاب حضرت امیر المومنین کی خدمت میں پیش کیا جاتا۔حضور کی منظوری کے بعد صدر مجلس مختلف شعبہ جات کے لئے مہتم خود تا مزد کرتے جس سے مجلس عاملہ مرکزیہ کی تشکیل ہوئی۔چنانچہ سید نا حضرت امیر المومند الثانی کی راہنمائی سے خام الحد یہ کام کو نیکی ذیلی شعبوںمیں تقسیم کیا گیا اور ہر شعبہ کے چلانے کے لئے ایک مہتم مقرر ہوتا رہا:۔شعبه و قادر عمل - شعبه خدمت خلق - شعبه تبلیغ - شعبه تربیت و اصلاح - شعبہ تعلیم - شعبد اطفال - شعبہ صحت جسمانی - شعبه تجنید بنعبد مال - شعیر اشاعت - شعبه اعتماد ہے حفر صا حبزادہ مرزا ناصر احمد صاحت کیے حضرت صاجزاده محافظ مرزا ناصر احمد صاب فروری ۱۳۷ سے لے کر اکتوری ۱۹۴۹ء تک صدر مجلس اور بعد ازاں ابتدائی عہد صدارت میں کام کرنے واے مہتممین نومبر ۱۹۵۳ و تک نائب صدر را منتخب کئے گئے۔آپ نے اپنے زمانہ صدارت کے ابتدائی دس سالوں میں ۱۹۴۷ ء تک وقتا فوقتا جن خدام کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا عہدیدار مقرر فرمایا ان کی قریبت یہ ہے :- اے مجلس کے آئین دستور الماسی کا ایک حصہ الفضل در نوبر ۱۹۳۹ ء میں شائع شدہ ہے۔سے رپورٹ مجلس خدام الاحمد یہ سال اول دروم سے ملخصاً حضرت امیرالمومنین خلیفة المسیح الثانی نے سالانہ اجتماع اور پر اعلان فرمایا کہ آئندہ عکس کا مصدر میں خود ہوں گا۔