تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 462
۴۴۷ ی تعلیم محدود رہی تو کبھی ایسا اختر رنگ نہ دیگی میں کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔" K مجلس خدام واحمدیہ کی داغ می می دادم و یک امام کی تقریر کا یہ ہے کہ سر نمی ماند و حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خصوصی اجازت اور شیخ محبوب عالم صاحب ایم اے کی بعیت پر قادیان کے مندرجہ ذیل دن نوجوان ان کے مکان (متصل بورڈنگ، مدرسہ احمدیہ) پر جمع ہوئے۔دا، مولوی تمر الدین صاحب (۲) حافظ بشیر احمد صاحب (۳) مولانا ظہور حسین صاحب - و م)، مولوی غلام احمد صاحب فرخ (۵) موادی محمد صدیق صاحب (۶) سید احمد علی صاحب (6) حافظ قدرت اللہ صاحب (۸) مولوی محمد یوسف صاحب (۹) مولوی محمد احمد صاحب جلبیل (۱۰) چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ان احباب نے صدارت کے لئے موادی قمر الدین صاحب کا اور سیکرٹری کے لئے شیخ محبوب عالم صاحب خالد کا انتخاب کیا۔ان نوجوانوں نے خدا تعالٰی کے فضل ونصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے تائید خلافت میں کوشاں رہنے اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہونے کا عزم کیا۔اس مجلس کی بنیاد چونکہ حضرت امیرالمومنین کی اجازت سے رکھی جا رہی تھی اس لئے حضور ہی سے اس کا نام رکھنے کی درخواست کی گئی۔حضور نے مہر فروری ان کو اس تنظیم کو مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے موسوم فرمایا اور ضروری اور مارچ میں ناریان کے مختلف حلقوں میں اس کی شاخیں قائم کر دی گئیں نا دوران میں مجلس کا کام یہ تھا کہ اس کے ارکان قرآن و حدیث تاریخ۔فقہ اور احمدیت و اسلام کے متعلق کتب وغیر کا مطالعہ کرتے اور مخالف احمدیت و خلافت تنوں کے جواب میں تحقیق و تدقیق کرتے۔ان دادن شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کا فتنہ برپا تھا۔چنانچہ میں نے یکے بعد دیگرے دو ٹریکٹ شیخ مصری صاور بے اشتہار ہے کے رد میں لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔پہلا ٹریکٹ شیخ مصری صاحب کا صحیح طریق فیصلہ سے فرار کے عنوان سے شائع ہوا۔دوسرے کا عنوان روھانی خلفاء کبھی معزول نہیں ہو سکتے “ تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ارکان مجلس کی ان ابتدائی علمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- کے انفضل دار فروری ۱۹۳۷ و صفحه ۳ کانم ۱-۲