تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 457
احباب جماعت پر لاٹھیوں سے حملہ کرا دیا۔کئی احمدیوں کو شدید ضربیں آئیں اور لاٹھیاں تو اکثردہ ستوں اور علما اسلسلہ کے بھی لگیں مشرفائے دہلی نے احمدیوں کے صبر و تحمل کی بہت تعریف کی۔اور انجمن سیف الاسلام والوں کو لعنت علامت را کے وقت سناتن دھرمیوں کا انجمن والوں سے مناظرہ تھا۔مگر انہوں نے کہہ دیا کہ جہاں ایسے اخلاق کا مظاہرہ ہو وہاں ہم جانا نہیں چاہتے۔اے -۳- مباحثہ کراچی۔کراچی میں مولوی ابوالعطاء صاحب نے ۲۰ - ۱۲۹ مارچ ۱۹۳۷ء کو پنڈت رامچند رقصاب آریہ مناظر سے مسئلہ تناسخ اور حدوث روح مادہ پر مناظرہ کیا مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں ، آریوں اور سکھونی بھی احمدی مناظر کے زور دار دلائل کی از حد تعریف کیاور کھلم کھلا اقرار کیاکہ پنڈت صاحب موصوف مولوی صاحب موصوف کے اعتراضات کا جواب نہیں دے سکے اور نہ دے سکتے تھے کیونکہ وہ ایسے مسائل کی حمایت میں کھڑے تھے جوغیر فطری تھے اورسلیم الفطرت انسان کا کانشنس یہ خلاف ما عاد قبول کرنے کیلئے بھی تیارنہیں ہوسکتا؟ ضلع ڈیرہ غازیخان۔مارچ 4 لیر میں احمدی مناظرین (چوہدری محمد شریف صاحب ، مولوی ظفر محمد صاحب ، مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر اور ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب موگا نے سائیں الحسین صاحب اختر سے ڈیرہ غازیخاں، بستی بزدار اور جام پور میں کامیاب مناظرے کئے۔سے مباحثہ ملتان۔ملتان شہر میں ہو ا پریل ۳۶ رو کو صبح سے لیکر ظہر تک جماعت احمدیہ اور جمعیتہ احسان ملتان کے درمیان جمعیتہ کی جلسہ گاہ میں صداقت حضرت مسیح موعود پر مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی ابو العطاء صاحب مناظر تھے۔اور جمعیتہ احناف کی طرف سے سائیں لال حسین صاحب اختر اب حسب قاعدہ مدعی ہونے کے باعث احمدی مناظر کی پہلی اور آخری تقریر تھی۔اسی طرح دوسرے شرائط مناظرہ میں ایک شرط تہذیب و متانت کی تھی۔مولوی ابوالعطاء صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں قرآن مجید، احادیث اور دیگر معقول اور ٹھوس دلائل سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت و اصح کی اور آخر وقت تک نہایت یکی سنجیدگی ، متانت اور فاضلانہ پیرایہ میں اپنا مضمون نبھاتے رہے۔مگر فریق ثانی قرآنی معیاروں کی طرف آنے کی بجائے دروغ بیانی، تحریف و تلبیس، بد زبانی اور اشتعال انگیزی پر اتر آیا اور گالیاں دینے میں حد کردی۔اور جب احمدی مناظر کی آخری تقریر کا وقت آیا۔تو فریق مخالف کے پریذیڈنٹ صاحب اور اُن کے ساتھی اُٹھ کھڑے ہوئے۔اور محفل مناظرہ درہم برہم ہوگئی۔احمدیوں نے اس خلاف ورزی کی جانب توجہ دلائی گھر کوئی سله !۔١٩٣ الفضل در مارچ ۱۹۳۶ صفحه ۲ : کہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو افضل ۱۳ را پریل ۱۹۳۶ به صفحه ۸ کالم ۴۰۳ 4۔ه الفضل بیکم اپریل ۱۹۳۶ صفحه ۹۔