تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 450
۲۷۳۵ واقعہ سنایا کرتے تھے فرماتے ہیں نے دیکھا کہ ایک آدمی عطر فروخت کر رہا ہے۔میں نے بھی ایک پیکٹ لیا۔جب کھولا۔تو اس میں ایک اور بیکیٹ تھا۔حتی کہ کئی ایک پیکٹ کھولنے کے بعد ایک شیشی نکلی جس کے کھولنے سے سارا جہان معطر ہوگیا۔جب پڑھا تو شیشی پر مرقوم تھا یا براہین احمدیہ اس لطیف خواب پر آپ سے مری خودا کی غلامی میں آگئے۔بہت متبحر عالم تھے۔کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ کسی حدیث کی ضرورت پڑی۔اس پر حضور نے ایک کسانڈنی سوار گورداسپور سے لودی نگل بھیجا کہ اُن کو لے آؤ۔قاصد جو نہی اُن کے پاس پہنچا اور آپ اُسی وقت چل دئے۔عصر کی نماز گاؤں سے باہر ادا کی اور آدھی رات کے بعد آپ گورداسپور پہنچے۔اور حضرت کی موعود علیہ اسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر مطلوبہ حدیث پیش کردی۔حضرت مولوی صاحب کے ذریعہ لودی منگل، نتیجہ کلاں، کھو کھر اور پھر بال میں احمدی جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ تینتالیس برس تک تبلیغ احمدیت میں منہمک رہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں پر آپ کو بہت عبور حاصل تھا۔سطروں کی سطریں زبانی سنا دیتے تھے۔کوئی کام دُعا کے بغیر شروع نہ کرتے۔بہت مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔لے (۸) حضرت میاں شادیخان صاحب کی شکل با غبانان متصل قادیان تاریخ وفات ۲۲ جون و مهره مارال (۹) حضرت با با محمد کریم صاحب متوطن علاقه خوست ( تاریخ وفات ۲۶ جولائی ۱۹۳۴ ء بعمر ۶۰ سال به (1) کپتان اللہ داد خان صاحب آن کھاریاں ( تاریخ وفات ۲۱ اگست ۱۹۳۶) ۸۰ منہ میں پیدا ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی دعا کے طفیل معمولی سپاہی سے ترقی کرتے کرتے کپتان کے عہد تک پہنچے ہیں (۱۱) میاں محمد اسماعیل صاحب مالیر کوٹلوی (تاریخ و فانت ۱۲۹ اگست ۱۹۳۷ شه لعمر ۸۰ سال) شه مندرجہ بالا صحابہ کے علاوہ یہ مندرجہ ذیل مخلصین سلسلہ کا بھی : صال ہوا ا سیٹھ غلام محمد ابراہیم صاحب ( تاریخ وفات ، ارا پریل ۹۶ به ته میر مہدی حسین صاحب مالک احمدیہ فرنیچر سٹور دہلی۔( تاریخ وفات ۲۹ را پر مل ۲۱۹۳۶) شه ZA ه افضل ۲ ستمبر ۱۹۳۵ء صفحه ۵۰۸ : له افضل ۲۹ جون شاهد و صفحه ۱ ب له الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۳۶ یہ صفحہ ا کالم نو ه الفضل ۲ اگست ۱۹۳۶ صفحه ۹ کالم ۳ : شه الفضل ۲۶ ۱ اگست ۱۹۳۷ء صحرا کالم : له حضرت سلیم عبدالله الدین صاب کے ماموں شاہ کے قریب داخل احمدیت ہوئے بہت ہی مخلص تھے، تہجد گزار در سلسلہ کے خدائیوں میں سے تھے 6 سال کی عمر میں انتقال کیا۔والفضل ۳۰ را پریل ۱۹۳۶ء صفحه ۱۲ ك الفضل لاني یہ صفحہ ا کالم ا۔جماعت دہلی کے مخلص اور جوشیلے احمدی تھے۔انکے والد میر احمد حسن صاحب اصحابی حضرت مسیح موعود اپنے مولوی احمد رضا خان صاحب پر یوری کے مریدوں کے ہاتھوں بہت تکالیف اٹھائیں۔کئی بار ماریں کھائیں ( الفضل ، سٹی سر و صفحه ۹) ۹۳