تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 445
سم هوم باقیماندہ صحابہ کی روایات کے محفوظ کرنے کی خاص تحریک فرمائی چنانچہ فرمایا :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تشلہ کی ابتداء میں ہوئی ہے۔اور اس وقت جن لوگوں کی عمر پندرہ سال کی سمجھی جائے۔کیونکہ یہی کم سے کم عمر ہے جس میں بچہ سمجھ رکھتا ہے تو ایسے لوگوں کی کم بھی اب ۴۴ سال ہوگی جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگ بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ ہمیں سال اور جماعت ہیں رہ سکتے ہیں۔اور بظاہر آج سے ۲۰ - ۲۵ سال بعد شائد ہی کوئی صحابی جماعت کو مل سکے۔ایسا صحابی جس نے حضور کی باتوں کو سنا اور سمجھا ہو۔میں کھتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سیران کے حالات کی کتابیں اور سنا دی گرمی کی موقع تین چار سو ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں جن میں سے ہر ایک جلد پانسو صفحات کی ہوگی اگر ایسی تین سو جلدیں بھی ہوں تو یہ ڈیڑھ لاکھ صفحات ہوں گے۔فرض صحابہ کرام نے اتنا ذخیرہ چھوڑا ہے کہ آج ہمیں بہت ہی کم یہ خیال آسکتا ہے کہ کاش رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی فلاں بات ہیں معلوم ہوتی مگر حضرت سیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے حالات و اقوال اور واردات کا بہت ہی کم حصہ محفوظ ہوا ہے۔میں نے بارہا دوستوں کو تو یہ دلائی ہے کہ جو بات کسی اور کو معلوم ہو۔وہ لکھا دے اور دوسروں کو شنادے مگر افسوس کہ اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اور اگر کس نے توجہ کی بھی ہے تو ایسی طرز یہ کہ اس کا نتیجہ صفر کے برابر ہے۔پس۔۔۔۔یکی دوستوں بالخصوص نظارت تالیف تصنیف اور تعلیم کو توجہ دلاتاہوں کہ یہ اس قسم کا کام ہے کہ اس میں سے بہت سا ہم ضائع کر چکے ہیں اور اسکے لئے ہم خدا کے حضور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔اب جو باقی ہے ایسے ہی محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ہمارا سالانہ بجٹ تین لاکھ کا ہوتا ہے۔مگر اس میں ایک ایسا آدمی نہیں رکھا گیا۔جو ان لیکچروں اور تقریروں کو وصی باشد کریں قلمبند کرتا جائے۔اب بھی اگر ایسا انتظام کر دیا جائے تو جو کچھ محفوظ ہوسکتا ہے اسے کیا جاسکتا ہے۔اور اس میں سے سال دو سال کے بعد ہر جمع ہو شائع ہوتا رہ ہے۔اور باقی لائبریریوں میں لوگوں کے پاس بھی محفوظ رہ ہے۔کیں سمجھتا ہوں۔اب بھی جو لوگ باقی ہیں۔وہ اتنے ہیں کہ ان سے چالیس پچاس نصیب ہی باتیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام ایک بہت بڑے مصنف بھی تھے۔اس سے آپ کی کتابوں میں بھی بہت کچھ آچکا ہے۔لیکن جو باقی صحابہ کو معلوم نہیں گرا کو محفوظ کریانہ کی انتظام نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسی لے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے نزدیک صحابی کی تعریف یہ جس شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہا تھو یہ بیعت کی ہو۔اور پھر ارتداد نہیں کیا۔خواہ درمیان میں کسی قدر کمزور ہو گیا ہو۔وہ یقینا صحابی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ؟ الفضل ۲۴ فروری ۱۹۳۶ و صفحه ۲ کالم ۱)