تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 414 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 414

۳۹۹ مولوی نذیر احمد صاحب نے ایک طرف حضور کی خدمت میں ۲۱ اکتوبر سکسی مرد کو بذریعہ تالہ دعا کی درخواست کی اور دوسری طرف مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کو کینیا ڈی سی اور چینیوں کے پاس ان ظالمانہ کاروائیوں کے انسداد و غیرہ کیلئے روانہ کیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مہم کامیاب رہی۔اور دسمبر سایہ کے آخر میں تمام احمدی قیدی نہ صرف آزاد ہوئے اور آزادانہ طور پر حریت پر عمل کر نے لگے۔بلکہ تمام جرمانے بھی حکومت نے واپس دلا دیئے ہیں اگر چہ ان تکالیف کا تو ازالہ ہو گیا مگر اگلے سال دسی اردو میں مظالم سیرالیون کے احمدیوں کا دوسرا دور شروع ہوا۔چنانچہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری اور میر دوسرا پر مظالم کا دو ادور نے سیرالیوں سے رپورٹ بھجواتے ہوئے لکھا:۔سیر الیون کی بعض احمدی جماعتوں کو ان علاقوں کے پیرا مونٹ چیف بہت تنگ کر رہے ہیں ہر ممکن کوشش سے اپنے علاقے کے جملہ احمدیوں کو احمدیت چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ایک علاقہ کے احمدیوں کو طرح طرح کے جھوٹے الزامات اور جھوٹی گواہیوں کے ذریعہ نہ صرف ضلع کے حکام کے سامنے بدنام کیا جارہا ہے۔بلکہ قید بھی کیا جارہا ہے۔میر وہاں مقرر کردہ امام العائم سنوسی پر یہ جھوٹا الزام لگا کہ کہ استمی چیف اور اسکی علاقہ کے ایک بت کی جس کی وہ پوجا کرتے ہیں۔اور ہر طرح سے اسے ڈرتے بھی ہیں۔احمدیہ مسجد میں وعظ کے دوران میں بہتک کی ہے۔ان کو دو ہفتہ تک ننگا کر کے اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر قید میں رکھا گیا۔جب میں نے ڈی سی صاحب کے ہاں شکایت کی تو جھوٹ اور دیگر بہانوں سے اور ادنی ملازموں کو رشوت دیگر مقدمے کی نوعیت بدل دی۔اور ڈی سی کو وہاں کی جماعت اور ان کے امام سے بدظن کر دیا۔تاکہ ڈی سی۔انہیں زیادہ سختی کرنے کا اختیار دے۔میں نے ڈی سی کے ہاں اپیل کی ہے۔اور تمام حالات سے انہیں دوبارہ آگاہ کیا ہے۔لیکن چیف بھی اپنے طور پر کوشش کر رہا ہے کہ احمدیت کو اپنی چینڈم سے نکال دے۔اور اس نے ڈی سی کو درخواست دی ہے۔کہ وہ ہر گز احمدیت اپنے علاقہ میں نہیں چاہتا۔اور کہ اسکی آدمی یا تو احمدیت سے انکار کر دیں یادہ ان کو وہاں سے نکال دیگا۔اور احمدیوں کا مشن ہاؤس اپنے قبضہ میں کرلے گا۔ڈی سی نے یہ جواب دیا کہ وہ با قاعدہ ایک درخواست بنا کر اور تمام وجوہ اس امر کی لکھ بھیجے۔پھر وہ اپنی رائے لکھنے کے بعد ڈویژنل کمشنر کی منظوری کیلئے الفضل ۲۸ ر تمبر ۹۲۳ ص به