تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 412 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 412

۳۹۷ میرے گہرے اور ذاتی دوست ہیں۔حالانکہ در حقیقت وہ ہمارا اسخت مخالف تھا۔اور ایڑی چوٹی کا زور لگار ہے تھا کہ کسی طرح ہمارے قدم یہاں نہ جمھیں۔اسکے بعد ایک مسلمان عالم میں کا نام سیدی ابراہیم تھا۔اس نے اٹھ کر کہا کہ ہم تومسلمان ہیں اور یہ بھی سلمان بلکہ یہ تو سلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ہمیں ان کے خلاف کیا شکایت ہو سکتی ہے۔میں نے ہی تو ان کو شہر نے کی جگہ دی ہوئی ہے اور میرے ہی ہاں یہ رہتے ہیں۔اگر مجھے کوئی شکایت ہوتی تو ایسا کیوں کرتا۔اس پر چیف کو بہت غصہ آیا۔اور اس نے بر سرعام اٹھ کہ کہا کہ تم لوگوں نے مجھے احمدیوں کے خلاف اکسایا اور تم روزانہ میرے کان بھرتے رہے کہ یہ ایسے ہیں ویسے ہیں۔اُنہیں یہاں اس شہر میں جگہ نہ دی جائے۔اور ان کے قدم نہ جمنے پائیں۔اور تمہارے ہی کہنے پر میں نے آج مباحثہ کی صورت پیدا کی تاکہ مجھ پر حقیقت حال کھل جائے اور احمدیوں کہ جب تم شکست دیدو گے تو انہیں جگہ نہ دینے کیلئے میرے پاس ایک عذر ہو جائیگا۔لیکن جب وقت آیا تو تم سب چُپ ہو گئے ہو۔تم نے مجھے آج اس قدر شرمندہ کیا ہے کہ میں منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہا - اسلئے آج ہی اس مقام پر کھڑے کھڑے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں احمدیوں کو خود اپنی زمین میں سے اپنے شہر میں بہترین جگہ دوں گا۔اور اب کوئی چیز بھی مجھے ایسی نہیں روک سکتی۔چنانچہ اپنے ہمیں موجودہ احد یہ سنٹرل سکول کی زمین دی۔جو اب واقعہ میں شہر کا سنٹر بنتا جارہا ہے۔اور بہت بڑی زمین ہے۔اس وقت سے خدا تعالیٰ نے اس شہر کے لوگوں کو ایسا نہ یہ کیا ہے۔کہ اب تک کسی مخالف کو بالمقابل سر اٹھانے کا موقعہ نہیں مل سکا۔اور خدا تعالیٰ نے ہماری پوزیشن مضبوط ترین بنادی ہے۔اور اب موجودہ وقت میں ہمارے پاس اس شہر میں ایک زمین کی بجائے دو زمینیں ہیں۔جن میں ہمارا سکول میشن ہاؤس احمدیہ مسجد - لائبریری اور پرنٹنگ پریس کی عمارات کھڑی ہیں۔اے الفضل ۶ تاريخ ۱۹۵، ص۳-۳ : مگو کا میں بھی مخالفت کے دوران خدائی نصرت کا ایک عجیب نظارہ دیکھنے میں آیا یہ درد کی بات ہے۔کہ :- ایک شامی ھر اپنے اس بات پر بگڑ کہ کہ اس کے لڑکے کے ساتھ جو احمدیہ سکول میں پڑھتا ہے۔افریقین کالے لڑکوں کے مقابلہ میں امتیازی سلوک کیوں نہیں کیا جاتا۔مخالفت شروع کر دی۔ہمارے مبلغ نے اُسے بتایا کہ یہ ہم سے نہیں ہو سکتا کہ سفید اور کالے میں فرق کیا جائے۔مگر اس نے اپنے لڑکے سکول سے نکال لئے اور بعض دوسرے شامیوں سے بھی ایسا ہی کرا یاد در مخالفت شروع کر دی۔ایک دفعہ انکی ہمارے مبلغین کو سر بانارہ گالیاں دیں۔اور حمد کرنے کی دھمکی بھی دی۔مگر ا نہوں نے صبر سے کام لیا اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہے۔ایک دن ارنی شامیوں کی ایک مجلس میں کہا کہ اب ہم ایک قلیل عرصہ میں احمدیت کو یہاں سے نکال دیں گے اور اس سکول کو برباد کر دیں گے۔مگر احمدی احباب ان