تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 409
۳۹۴ کی جمانہ تین مکمل کر دیں سیه جنوبی صوبہ کے دارالخلافہ ہو میں مرکز قائم کرنے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔یہاں بھی سب عیسائی فرقے احمدیوں کی مخالفت میں متحد ہو گئے اور بو کے پیرا مونٹ چیف اور ریاستی حکام جو احمدیہ مرکز کے لئے ایک سیع قطعہ کی پیشکش کر چکے تھے زمین دینے سے بالکل مکر گئے۔تے مولوی نذیر احمد صاحب نے ایک قطعہ زمین حاصل کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ کمشنر کی طرف رجوع کیا۔کمشنر صاحب کے سامنے بھی چیف اور اُس کے ساتھیوں نے اجارہ نامہ رکھنے سے انکار کر دیا۔اور دعیسائی، چین نے تویہ بھی تسلیم کیا کہ پادریوں نے اسے خفیہ طور پر کہا ہے کہ احمدیت۔عیسائیت کا رد کرتی ہے اس لئے احمدیوں کو زمین نہ دو۔ڈسٹرکٹ کمشنر کے سمجھانے پر یہ لوگ اجارہ نامہ لکھنے پر آمادہ ہو گئے۔لیکن ایک مخالف نے شرارت سے کہدیا کہ نقشہ میں احمدی مبلغ نے اصل زمین سے نہ اندر زمین شامل کرتی ہے۔ڈسٹرکٹ کمشنر نےحکم دیا کہ طرفین موقع پر جاکر پر کال کریں۔آخر ایک عرصہ کے بعد یکم مئی 1947 ء کو چیف کے نمائندے اور زمین کے مالکوں نے زمین اجارہ پر دینا منظور کرلی مگر جب ڈسٹرکٹ کمشنر کے پیش ہوئے تو چیف نے کہدیا کہ ہم آدھی زمین دیں گئے۔اور ساتھ ہی مالکان زمین نے بھی یہ تھوٹ بول دیا کہ ہم نے تو صرف آدھی زمین دنیا منظور کیا تھا۔ڈسٹرکٹ کمشنر نے چیف کو دو دن کی مہلت دی۔جس پر چیف نے اسی روز سارے قطعہ کی منظوری دید تھی۔اور ۱۹۲۳ء میں احمدیہ سکول اور دار التبلیغ تعمیر کر دیئے گئے۔یہ دونوں عمارتیں اور نہ مین شہر سے دور ہونے کی وجہ سے مسجد کے لئے موزوں نہیں تھیں اسلئے مسجد کے لئے شہر کے اندر کوئی مناسب قطعہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔لیکن پیرامونٹ چیف کو اصرالہ تھا کہ مسجد شہر سے دور بنائی جائے تا شہر میں احدیت نہ پھیل سکے۔آخر آنریل سیف الحاج الماحی سوری کی کوشش سے یہ عقدہ حل ہوا۔اور تو کے پیرامونٹ چیف نے شہر کے اندر زمین دے دی۔مولوی نذیر احمد صاحب نے مسجد کا نقشہ تیار کر کے محکمہ صحت سے تعمیر مسجد کی منظوری حاصل کر لی مسجد له الفضل ۲۵ نومبر س ماء من دار التبلیغ کی تعمیر کے دنور میں مانگبور کا میں مخالفت کا ز دور پڑھ گیا مٹی کہ ایک دانے ایک بدبخت نے مولوی محمد صدیق صاحب پر حملہ کر کے ان کی آنکھیں ضائع کرنا چاہیں۔لیکن ناکام رہا۔ر افضل دارمئی ۲۳ مت ) گئے۔الفضل - استمبر وارد صدا کالم ٣٣۔تھے۔الفضل ۲۵ نومبر س ص : +