تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 396
اس نظریاتی شکست کے علاوہ مصری صاحب کی بعد رسوائی کچھ کم باعث عبرت نہیں ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی مبشر اولاد اور آپ کے خاندان کو بدنام کرنے کے لئے اُٹھے تھے مگر خود ان ہی کی اولاد اُن کے لئے موجب نصیحت بن گئی بسید نا حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا تھا کہ "محمود سیح موعود کا بیٹا ہے۔اس پر جو زبان تیز کرے گا وہ یاد رکھے کہ محمد حسین نے ایسا کیا اور اس کی اولاد گندی ہو گئی ہے باقی رہے جناب مولوی محمد علی صاحب (جو مصری صاحب کی شرافت مولوی محمد علی صاح کا عبرتناک انجام انسان کو بے مثل قراردیتےہوئے ان کی تعریف و توصیف می زمین آسیان کے قلابے ملایا کرتے تھے اور تین کو مصری صاحب حدیث کے موعود "منصور" قرار دیتے تھے) سو وہ اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک خود مصری صاحب نے اُن کے خلاف وہی حربے استعمال نہیں کئے جو وہ سیدنا مصر خلیفہ ربیع الثانی کے خلاف استعمال کیا کرتے تھے چنانچہ خود موادی محمد علی صاحب نے ہر جولائی سے ائر کے ایک سے کر میں لکھا۔تجب سے میں گذشتہ بیماری کے حملہ سے اُٹھا ہوں اس وقت سے یہ دونوں بزرگ اور شیخ مصری میرے خان پراپیگنڈا میں اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں اور ہر ایک تنکے کو ایک پہاڑا بنا کر جماعت میں ایک فتنہ پیدا کو نا شروع کیا ہوا ہے۔اور نہ صرف وہ میری بیماری سے پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں بلکہ ان امور کے متعلق مجھے تسلم اُٹھانے پر مجبور کر کے میری بیماری کو بڑھا رہے ہیں۔اور یہ امر واقع ہے کہ میری بیماری پھر ان احباب کی مہربانی سے بڑھ گئی ہے؟ نیز لکھا :- جماعت کے بنیادی نظام پر کلہاڑی چلائی گئی ہے۔اور امیر جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا گیا ہے۔" اس سر کلو کے بعد مولوی صاحب موصوف نے ۱۳ اگست شاہ کو اپنے ” رکھوں کی داستان “ لکھی جس میں اپنے خلاف باغیانہ تحریک کی تفصیلات پر با تفصیل روشنی ڈالنے کے بعد لکھا کہ ایک طرف دن رات میرے خلاف مشورے ہوتے رہتے ہیں اور احمد یہ بلڈ ٹنگس سے یہ پراپیگنڈا ان تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مصری صاحب کے ایک رشتہ دار چودھری عنایت اللہ صاحب مبلغ مشرقی افریقہ کا مضمون مطبوعه اخبار "بدر" قادیان 4 اگست ۹۶۴ه و رساله " الفرقان" ربوہ مئی و جون ۱۶ صفحه ۹۸-۱۰۰ : " الفضل قادیان ۱۸ اپریل ۱۹۱۷ به صفحه ۳ :