تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 397
ہوتا رہتا ہے کہ میں کیا کیا قواعد کی خلاف ورزیاں کر رہا ہوں۔اور میری وجہ سے یہ جماعت نکتی ہو چکی ہے۔اور ان کے دلوں میں کوئی دینی جذبہ نہیں رہا۔دوسری طرف میں کوئی بات کہوں تو اس کے ماننے سے انکار کیا جاتا ہے" مصری صاحب کی یہ مخالفت مولوی محمد علی صاحب کے لئے بالآخر جان لیوا ثابت ہوئی اور آپ اپنے دکھوں کی داستان لکھنے کے ٹھیک دو ماہ بعد ۱۳ اکتو برا لنڈ کو اس جہان فانی سے میل جیسے چنانچہ اُن کی بیگم صاحبہ نے ۲۹ نومبر را د کو اپنی ایک چھٹی میں لکھا :- " مفسدوں نے مخالفت کا طوفان برپا کر دیا اور۔۔۔۔طرح طرح کے بیہودہ الزام لگائے یہاں تک بکو اس کی کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انمین کا مال غصب کر لیا ہے " " ان تفکرات نے آپ کی جان لے لی سب ڈاکٹر یہی کہتے تھے کہ اس غم کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کی جان گئی " ایک وصیت لکھ کر شیخ میاں محمد صاحب کو بھیجدی کہ یہ سات آدمی جو اس فتنہ کے بانی ہیں اور جن کے دستخط سے یہ سرکلر نکلے تھے اور جین کا سرغنہ مولوی صدر دین ہے، میرے جنازہ کو ہاتھ نہ لگائیں اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھائیں چنانچہ اس پر عمل ہوا" "حضرت عثمان کی طرح آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے رب سے جاملے" اسلام کی تاریخ یہی ہے کہ کلمہ گومسلمانوں نے ہی اپنے محسنوں اور لیڈروں کو قتل کیا ہے“ " یہ سچ ہے کہ موت کا وقت مقرر ہوتا ہے۔مگر جو قتل کرے وہ تو قاتل کہلاتا ہے جس طرح لیاقت علی کا وقت مقرر تھا مگر مارنے والا قاتل کہلایا " - لے حضرت امیر مرحوم کے دُکھوں کی داستان" صفحہ ۱۶ - ناشر مولوی عبدالوہاب احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈی ہوں یہ تھے بحوالہ رسالہ ”میاں محمد صاحب کی کھلی چھٹی کے جواب میں ناشر ناظر اصلاح و ارشاد ربوہ ہے +