تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 375
۳۶۲ مگر اس آسمانی انکشاف مجھے با وجود جس طرح حضرت مسیح موعود علی اسلام کو میر عباس علی صاحب سے متعلق اليام" أصلها ثابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ " کے ساتھ ان کے ارتداد کی یہ تو قبل اطلاع دی گئی، مگر حضور نے اُن سے اُس وقت تک اپنا مخلصانہ تعلق قائم رکھا جبتک کہ وہ خود کھلم کھلا معاندین سلسلہ کی صف میں نہیں چلے گئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی بھی شیخ صاحب کو سلسلہ سے وابستہ رکھنے کے لئے سلسلہ کی خدمات کے مواقع بہم پہنچاتے رہے حتی کہ دوسرے فرائض کے علاوہ ایک لمبے عرصہ تک مدرسہ احمدیہ کی ہیڈ ماسٹری بھی اُن کے سپرد رہی۔مصری صاحب اور غیرم اس دوران میں انہوں نے بار بار اپنی تقریر وں اور تحریروں میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی کے خلیفہ برحق ہونے اور حضور کی برکت سے قادیان کے پاکیزہ اور روحانیت سے لبریز ماحول کی شہادت دی مثلاً ۹۲ار میں مولوی محمد علی صاحب ایم ، اے امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :- (1) قربان جاؤں اس موٹی کریم کے جس نے باوجود کسی اہم ضرورت کے پیش نہ آنے کے محض اپنے ایک پیارے کی جیسے اس نے اپنے ہاتھ سے خلیفہ بنایا عزت رکھنے اور اس کے مقابلہ میں اس کے دشمن رمولوی محمد علی صاحب کو اسے اس خالات اصول حملہ میں بھی ناکام و نامرادی کا منہ دکھانے کے لئے احمدی لٹریچر میں پہلے سے ہی سامان رکھ دیا ہوا ہے “ کے (ب) آپ حضرت مسیح موعود کے اس شعر کا غور سے مطالعہ کریں سے غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے معلق کی کچھ پیش جاتی ہے اور مجھیں کہ جس کو عدا عزت دیتا ہے اس کو بندے ہرگز نہیں گرا سکتے۔پس آپ جو حضرت خلیفہ ہیں ثانی کی عزت کو گھٹانے میں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھتے رہے ہیں اس سے آپ سمجھ لیں کہ یہ عزت خدا کی طرف سے ملی ہے اور مقابلہ سے توبہ کر کے حضور کے دامن سے وابستہ ہو جائیں۔تاکہ آپ سے ترجمہ اس کی جڑ زمین میں محکم ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں" (مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۴ ، متذکره طبع دوم صفحه ۲۰ و ۱۲۲ + ے مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحه 1 64, 64, a سے " الفضل" ۲۷ فروری و ۲ مارچ ۸۱۹۲۲ صفحه ۳ +