تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 376
بھی ان برکات سے حصہ لے سکیں جو حضور کے شامل حال ہیں" له اسی طرح انہوں نے ۹۳۵ہ میں قادیان کے ایک پبلک جلسہ میں لیکچر دیا کہ یاد رکھو دونیا میں ہر وہ قریہ جس میں کوئی نبی بھیجا جاتا ہے ام القریٰ ہوتا ہے۔کیونکہ اور تمام لبستیوں نے اس کی چھاتیوں سے علم و عرفان کا دودھ پینا ہوتا ہے۔پس قادیان میں بچوں کو بھیجنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ قادیان سلسلہ کا مرکز ہے اور اُسے خدا نے دنیا کے لئے ام القری قرار دیا ہے چونکہ ان بچوں نے قادیان رہ کر احمدیت کی چھاتیوں سے دودھ پیا ہو گا۔اس لئے الا ماشاء اللہ ہر طالب علم بیرونی طالب علموں کے مقابلہ میں خدمت دین کے لئے زیادہ جوش و خروش رکھے گا۔یہاں ماحول نہایت پاکیزہ ہے اور فضا دینی رنگ میں رنگین ہے۔پھر یہاں جو طالب علم آتے ہیں وہ حضر امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحبت سے فیض حاصل کر سکتے ہیں حضور کے خطبات سُن سکتے ہیں۔درسوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔دیگر ممالک میں جانے والے مبلغین کی روانگی اور آمد کی تقریبوں میں شریک ہوتے ہیں اور اس طرح اُن کے دلوں میں یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی قدرت سلسلہ کریں۔یہ سب چیزیں باہر مفقود ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابہ کی ایک کثیر جماعت یہاں موجود ہے۔بیرونی جماعتوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ہیں مگر وہ پھیلے ہوئے ہیں اور اُن سے رُوحانی فوائد حاصل کرنا مشکل ہے۔مگر قادیان میں مجموعی طور پر ایک ایسی جماعت موجود ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا اور آپ سے براہِ راست فیضان حاصل کیا۔پس جو طالب علم یہاں آئیں گے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں " سے یہ طویل اقتباسات نقل کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مصری عقیدمیں مصری صاحب کے بنیادی عقید میں تبدیلی ایک ایسے شخص کی نسبت جو سر سے ۱۹۳۵ء تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے کے منجانب اللہ خلعت خلافت عطا کئے جانے اور قادیان کے پاکیزہ اور بعد انما ماتقول کا چرچا کرتا آرہا ہو کسی کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ خلیفہ وقت اور مرکز سلسلہ سے برگشتہ ہو سکتا ہے۔مگر فدائی نوشتے پورے ہو کر رہتے ہیں۔آخر وہی ہوا جس کی خبر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو یہ میں " الفضل " ۲ جون ۱۹۳۶ و صفحه ۵ کالم ۲-۳ : " الفضل " ۲۱ دسمبر ۱۹۲۳