تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 363 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 363

۳۵۰ قرآن کریم کے اوراق جلا دیئے چونکہ ہندوؤں کا یہ فعل سخت اشتعال انگیز تھا اس لئے فرقہ دار فساد کی آگ بھڑک اٹھی بھیس میں ایک ہندو ہلاک اور متعدد مجروح ہوئے حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی نے جو ان دنوں نید یا آب ہوا کی غرض سے کراچی میں تشریف رکھتے تھے، اس فساد کے متعلق مفصل بیان دیا جس میں فرمایا کہ اس قسم کے حادثات ہر سوسائٹی کے لئے خواہ اس کا معیار تمدن کچھ بھی ہو ، سخت افسوس ناک ہیں۔اگر کسی ہندو نے قرآن کریم کو بلایا ہے تو یہ بہت رنجیدہ امر ہے لیکن اگر کوئی مسلمان فرقہ دار فساد بر پا کرنے کی غرض سے ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا تو یہ اور بھی زیادہ قابل مذقمت بات ہوتی۔اس قسم کے فرقه دار تصادم کو بنظر غور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے حالات میں ایک عجیب تطابق پایا جاتا ہے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ایسے تمام واقعات کی نہر میں ایک ہی نفسیاتی کیفیت کام کر رہی ہے۔بنا بریں اس مرض کا علاج معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں۔بیان جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا :- ایک مذہبی انسان کی حیثیت سے میرے نزدیک سب سے اہم چیز اس مسئلہ کا اخلاقی پہلو ہے۔اگر سینڈ اور سلم عوام پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی جائے کہ اس قسم کے جرم کا ارتکاب افراد ہی کرتے ہیں اور اگر بعض حالات میں سزا کی ضرورت محسوس ہو تو بجرم کا ارتکاب کرنے والا ہی سزا کا مستحق سمجھا جائے نہ کہ اس کی قوم کے سارے افراد، تو مجھے یقین ہے کہ اس قسم کے فسادات میں بہت کچھ کمی واقع ہو جائے گی۔اس طرح قدرتی طور پر ایک طرف مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو جو لوگوں کو برانگیختہ کر کے فسادات بر پا کرنے کے درپے رہتے ہیں۔اپنی مفسدانہ حرکات کا موقعہ نہ ملے گا اور دوسری طرف عوام زیادہ ہشیار اور بیدار ہو جائیں گے اور سجائے اس کے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے کے ہم مذہبوں کے خلاف اپنے جوش ناراضگی کا اظہار کر کے اپنے آپ کو تسکین دیں ، وہ حقیقی مجرم کی تلاش کی طرف زیادہ توجہ دیں گے لے " الفضل ۲۵ مئی ۹۳ ایر صفحه ۱-۲ *