تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 364 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 364

۳۵۵۱ فصل دوم مولانا عبدالرحمن صاح فاضل ان صاحہ میں ایک عرص سے قادیان کے پرانے قبرستان کا مقدمہ چل رہا تھا۔اور جوان کی اسیری اور رہائی کوشن جی گورداسپور نے اس کا فیصلہ سنایا۔جس میں مولانا عبدالرحمن صاحب مدرس مدرسہ احمدیہ کو چار ماہ قید سخت یا ایک سور و پیر جرمانہ کی سزادی مولانا صاحب نے جرمانہ ادا کرنے کی بجائے جیل خانہ میں جانے کو ترجیح دی اور آپ قید کر دیئے گئے۔مگر و جولائی سائرہ کو جب جرمانہ بذریعہ قرقی وصول کر دیا گیا تو آپ اسی روز جیل سے رہا ہو کر ساڑھے پانچ بجے شام کی ٹرین سے قادیان گئے جہاں سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور دوسرے احباب جماعت نے آپ کا استقبال کیا ہے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مولانا صاحب کی اس قربانی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :- میرے نزدیک ہماری جماعت میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس حالت کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہوئے جو بد قسمتی سے نظام حکومت میں پیدا ہو گئی ہے ، ہماری جماعت کا ایک خروجی خانہ گیا۔میں نے اس بات کو مد نظر رکھ کر قبرستان کے مقدمہ میں جو ملزم تھے، ان کو مشورہ دیا تھا کہ اگر بطور منرا جرمانہ ہو تو ادا نہ کریں اور قید قبول کریں۔ہاں اگر حکام خود جرمانہ لے لیں تو اور بات ہے۔خدا تعالیٰ کے منشا کے ماتحت باقی سارے ملزمین تو رہا ہو گئے اور صرف مولوی عبدالرحمن صاحب باقی رہ گئے جن کو موقعہ مل گیا کہ جیل میں پہلے جائیں۔۔۔۔۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی خواہشات سے منع فرمایا ہے۔اس لئے ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ احمدی جیل خانہ میں جائیں لیکن یہ بنا دینا چاہتے ہیں کہ اگر موقعہ ملے تو ڈرتا نہیں چاہیئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ نقش ثانی بہتر ہو گا نقش اول سے۔جوں جوں اُس کے موقعے پیش آتے رہیں بلا اپنی کسی خواہش اور تمنا کے جو کوئی مصیبت میں گھر جائے اُسے بجائے بزدلی دکھانے کے ایسی بہادری دکھانی چاہیئے کہ لوگ سمجھ لیں احمدی بزدل نہیں ہوتے۔ایسے ہی موقعے جرات اور بہادری دکھانے کے ہوتے ہیں" سے " الفضل" در جون ۱۹۳۰ء صفحه ۲ کالم ۲ * له الفضل " ۱۱ جولائی ۱۳۷ از صفحه ۲ کالم ۲ * " سے " الفضل" ۳۱ جولائی ۹۳۷ہ صفحہ ۳-۴ :